تجدید دین
الرسالہ، جون ۱۹۷۸، صفحہ ۱۱
بفرضین وسنتہ دو فرض اور ایک سنت کے ساتھ میں نماز میں داخل ہوتا ہوں۔
نوجوان نے یہ جواب امام محمد بن حسن اور امام ابو یوسف کو پہنچایا تو انھوں نے کہا " جواب ایسے آدمی کا جس کی علم پر نظر ہے، ، اب انھوں نے لڑکے کو دوبارہ بھیجا کہ جاؤ پوچھو وہ دونوں فرض اور سنت کیا ہیں۔ اس نے آ کر پوچھا تو امام شافعی نے کہا: پہلا فرض نیت ہے، دوسرا فرض تکبیر تحریمہ ہے۔ اور سنت دونوں ہاتھوں کا اٹھانا ہے (رحلة الامام الشافعی، المطبعة السلفیہ قاہرہ، ۱۳۵۰ ھ، صفحات ۱۳-۱۴)
یہی واقعہ اگر دو صحابی کے درمیان ہوتا تو کیا ان کا سوال وجواب بھی اسی قسم کا ہوتا۔ فضل بن موسیٰ کا بیان ہے کہ مشہور محدث اعمش (۱۳۷ھ) بیمار پڑے اور امام ابوحنیفہ (۱۵۰ ھ-۸۰ھ) ان کی عیادت کے لئے گئے۔ میں بھی ساتھ تھا۔ امام ابوحنیفہ نے اعمش سے کہا " ابو محمد! یہ خیال نہ ہوتا کہ بار بار آنے سے آپ کو تکلیف ہوگی تو میں جلد جلد عیادت کو آتا"، اعمش نے جواب دیا : "جب آپ اپنے گھر میں ہوتے ہیں، اس وقت بھی میرے اوپر بوجھ ہوتے ہیں، عیادت کا کیا ذکر ہے فضل کا بیان ہے کہ واپسی پر امام ابوحنیفہ نے مجھ سے کہا " اعمش کا کبھی نہ کوئی روزہ صحیح ہوا ہے نہ غسل جنابت ﷺ فضل کہتے ہیں کہ سحری اور غسل کے بارے میں امام اعمش کا مسلک امام ابو حنیفہ سے مختلف تھا ۔ ( ابن عبد البر، جامع بیان العلم وفضلہ، جزء ثانی، صفحہ ۱۵) کیا کسی صحابی سے توقع کی جاسکتی ہے کہ محض فروعی مسائل میں فرق کی وجہ سے وہ کسی کے روزہ اور غسل کی صحت اور عدم صحت کے بارے میں اس قسم کا حکم لگاتا۔
اس قسم کے مباحث و مسائل کا نتیجہ یہ ہوا کہ فقہ اسلامی کے نام سے ایک ایسا فن وجود میں آگیا جس سے اصحاب رسول بھی نا واقف تھے۔ کس صحابی کو خبر تھی کہ وضو میں مثلاً " چار فرض ہیں، ۱۳ سنتیں ہیں اور8 مستحبات "- علم دین کے بارے میں فقہ کے ایجاد کردہ اس فنی معیار نے بعض اوقات بڑی نا پسندیدہ چیزیں پیدا کر دیں۔ کہا جاتا ہے کہ امام ابوحنیفہ نے امام اوزاعی (۱۵۷ھ) سے کہا تھا :
لولا فضل الصحبة لقلت ان علقمة افقه من اگر صحابی ہونے کی فضیلت عبد اللہ بن عمر میں نہ ہوتی تو عبد الله بن "
(حجتہ اللہ ۳۷۱) میں کہتا کہ علقمہ عبداللہ بن عمر سے زیادہ فقیہ ہیں ۔
امام ابوحنیفہ کے ذہن میں یہ بات اسی لئے آئی کہ " فقہ " ان کے زمانے میں جس فن کا نام بن گیا تھا اس فن میں انھیں عبد اللہ بن عمر صحابی علقمہ تابعی سے پیچھے نظر آتے تھے۔ بعض اوقات یہ ذہن اور بھی زیادہ نا پسندیدہ شکل میں ظاہر ہوا ۔ ضحاک مشک کو مکروہ سمجھتے تھے۔ لوگوں نے کہا " مگر اصحاب محمد تو مشک کا استعمال کرتے تھے "، ضحاک نے جواب دیا " ہم اصحاب محمد سے زیادہ جانتے ہیں"، (نحن اعلم منهم، جز وثانی ۱۵۵) صحابہ سوالات کا جواب دینے سے بچنے کی کوشش کرتے اور نئے نئے سوالات کی حوصلہ شکنی کرتے تھے۔ اب ایسے لوگ پیدا ہو گئے جو بیباکی کے ساتھ نئے نئے سوالات کرتے اور ان کا جواب حاصل کرنے کی کوشش کرتے۔ مثال کے طور پر:
سئل الامام خجندى رحمہ اللہ عن رجل شافعی المذہب امام تجندی سے کسی نے پوچھا کہ ایک شخص شافعی المذہب
‹ Previous page Next page › Contents of June 1978 All issues