تجدید دین
الرسالہ، جون ۱۹۷۸، صفحہ ۱۲
ترک صلاة سنة او سنتين ثم انتقل الى مذهب ابی حنیفة کیف يجب علیہ القضاء ، اليقضيہ علی مذہب الشافعی او علی مذہب ابی حنیفة حجة اللہ البالغہ ، جلد اول ، ۳۷۸ نے ایک سال یا دو سال کی نماز ترک کردی۔ اس کے بعد اس نے ابو حنیفہ کا مذہب اختیار کر لیا تو اس پر کس طرح سے قضا واجب ہے ، آیا امام شافعی کے مذہب کے موافق قضا نماز ادا کرے یا امام ابو حنیفہ کے مذہب کے موافق ۔ اس قسم کی باتیں صحابہ کے زمانہ میں معدوم تھیں۔ حتیٰ کہ کوئی شخص اگر کسی صحابی سے ایسا سوال کرتا تو وہ اس کا جواب دینے کے بجائے اس پر لعنت بھیجتا کہ کیا تم دین محمدی کو دین یہودیت بنانا چاہتے ہو۔ مگربعد کو یہ حال ہوا کہ لوگ نہایت دلیری کے ساتھ اس قسم کے سوالات کرتے اور جواب دینے والے فخر کے ساتھ ان کا جواب دیتے کیونکہ ”فقه“ ان کے نزدیک سب سے بڑا علم تھا :
وکان بعد هم قوم لا یکرهون المسائل ولا يهابون الفتيا ويقولون على الفقه بناء الدين فلا بد من اشاعته حجة اللہ البالغہ ، ۳۵۲ ان کے بعد ایسے لوگ ہوئے جو مسائل کو بیان کرنے میں کوئی برائی محسوس نہیں کرتے تھے اور فتویٰ دینے سے خوف نہیں کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ دین کی بنیاد ہی فقہ پر ہے ، اس لئے اس کی اشاعت ضرور ہونی چاہئے۔ یہی وہ زمانہ ہے جب کہ اصحاب حدیث اور ارباب رائے (فقہاء) کے درمیان زبردست اختلاف پیدا ہوا۔ حضرت ابو ہریرہ کی یہ روایت محدثین کے درمیان خوب پھیلی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ امت کچھ زمانہ تک کتاب اللہ اور کچھ زمانہ سنت رسول اللہ پر چلے گی۔ پھر رائے پر عمل شروع ہوگا اور اسی وقت سے گمراہی میں پڑ جائے گی۔ (جامع بیان العلم ، جزو ثانی ، ۱۳۳) قاسم بن محمد بن ابو بکر نے فقہی خوض کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کہا: قال القاسم انكم تسئلون عن اشياء ما كنا نسأل عنها و تنقرون عن اشياء ما كنا ننقر عنها (حجة اللہ البالغہ ، ۳۱۷)
تم ایسی باتیں دریافت کرتے ہو جن کو ہم (صحابہ سے) دریافت نہیں کرتے تھے اور ایسی باتوں کی تفتیش کرتے ہو جن کی ہم تفتیش نہیں کرتے تھے۔
فقہی خوض کے نتیجہ میں جب عبادت الہی کے ایسے ایسے احکام و مسائل وجود میں آئے جن سے اصحاب رسول اللہ بھی ناواقف تھے تو اہل نظر چیخ اٹھے۔ بقیہ بن الولید کا بیان ہے کہ امام اوزاعی (۱۵۷ھ) نے مجھ سے کہا ”اے بقیہ ! علم وہی ہے جو اصحاب محمد سے پہنچا ہے۔ اور جو کچھ اصحاب محمد سے نہیں پہنچا ، وہ علم ہی نہیں“۔ (ثانی ۲۹) سعید بن جبیر تابعی (۹۵ھ) نے کہا ” جو بات اصحاب بدر کو نہیں معلوم وہ دین بھی نہیں“۔ ـــــ (مالک عبرفه البِد دیوان فليس من الدين ، ۹۷)۔ شعراء نے اس پر نظمیں لکھیں۔ ایک شاعر اپنی طویل نظم میں کہتا ہے : قد نقض الناس حتى احد ثوا بدعا في الدين بالى اى لم تبعث به الرسل (۹۸)
لوگوں نے کھود کرید کی، ، یہاں تک کہ دین میں ایسی نئی چیزیں نکالیں جنھیں پیغمبر نہیں لائے تھے۔ عبداللہ بن مسلمه قعنبی کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ میں امام مالک کے پاس گیا تو دیکھا کہ رو رہے ہیں۔ میں نے سلام کیا،
‹ Previous page Next page › Contents of June 1978 All issues