تجدید دین
الرسالہ، جون ۱۹۷۸، صفحہ ۱۳
انھوں نے جواب تو دیا مگر روتے رہے۔ میں نے کہا ابو عبداللہ ! کیوں آپ اس قدر رو رہے ہیں، فرمایا: ’’میرا معاملہ اب خدا کے ہاتھ میں ہے۔ مجھ سے بہت زیادتی ہوئی ،کاش اس معاملہ میں میرے لفظ لفظ پر ایک کوڑا مجھے مارا جاتا اور میں نے اپنی رائے سے کچھ نہ کہا ہوتا، اتنے زیادہ فتوے نہ دیئے ہوتے‘‘ (جزء ثانی ، صفحہ ۱۳۵) امام مالک کہتے ہیں، اگلے لوگ جن کو میں نے دیکھا، ان کا یہ دستور نہ تھا کہ بے دھڑک کہہ دیں، یہ حلال ہے، وہ حرام ہے۔ عبداللہ بن مسلمہ قرشی سے روایت ہے کہ امام مالک نے کہا ” یہ معاملہ برابر استوار رہا۔ یہاں تک کہ ابو حنیفہ ظاہر ہوئے اور مسلمانوں میں رائے کو رواج دے گئے۔ ‘‘ خالد بن نزار نے امام مالک کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ’’ ابو حنیفہ تلوار لے کر اس امت پر ٹوٹ پڑتے تو اتنا نقصان نہ پہنچا سکتے جتنا اپنی رائے وقیاس سے پہنچا گئے ہیں‘‘، ابن عیینہ نے کہا ’’کوفہ کا معاملہ درست رہا، یہاں تک کہ ابو حنیفہ کا ظہور ہوا۔ جزء ثانی، صفحہ ۱۴۷ امام ابویوسف (۱۸۲ھ) نے جب عباسی سلطنت میں قانون کا عہدہ سنبھالا تو فقہ کے پھیلاؤ کے لئے ایک مادی محرک بھی پیدا ہو گیا :
وکان اشهر اصحابه ذكر ابو يوسف رحمه الله امام ابو حنیفہ کے شاگردوں میں سب سے مشہور امام فولى قضاء القضاة ايام هارون الرشيد فكان ابو یوسف ہیں۔ وہ ہارون رشید کے عہد میں قاضی القضاة سببا لظهور مذهبه والقضاء به في اقطار مقرر کئے گئے۔ پس وہ امام ابو حنیفہ کے مذہب کی العراق ودخراسان وما وراء النهر شہرت کا اور اطراف عراق ،خراسان اور ماور اء النہر (حجة الله، ۳۳۳۰) میں معمول بہ ہونے کا سبب بن گئے ۔
امام ابو یوسف کو اسلام میں سب سے پہلے ’’قاضی القضاة ‘‘ کہا گیا ۔ وہ تین عباسی خلفاء ــ مہدی، ہادی اور ہارون الرشید کے زمانہ میں قاضی کے منصب پر فائز رہے۔ اس زمانہ کے لحاظ سے ان کا عہدہ بیک وقت چیف جسٹس اور وزیر قانون دونوں کا تھا۔ چنانچہ پوری حکومت اسلامی میں فقہ، خاص طور پر فقہ حنفی کو خوب ترقی ہوئی۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ لوگ حکومت کے عہدوں کے لئے فقہ میں مہارت حاصل کرنے لگے۔ محمود دراق (ص ۶۸) کی ایک طویل نظم کے چند شعر یہ ہیں (جامع بیان العلم وفضله، جزء اول، صفحه 166) ركبوا المواكب واغتدوا زمرا الى باب الخليفه صبح ہوئی اور سوار ہو کر خلیفہ کی ڈیوٹیھی کی طرف دوڑے وصلوا البكور الى الرواح ليبلغوا الرتب الشريفه اونچے عہدوں کی طلب میں رات دن ایک کر دیتے ہیں ضاقت قبور القوم واتسعت قصورهم المنيفه ان کی قبریں تو تنگ ہو چکی ہیں مگر اونچے محل خوب وسیع ہیں
‹ Previous page Next page › Contents of June 1978 All issues