Al-Risala · June 1978 · page 14

تجدید دین

الرسالہ، جون ۱۹۷۸، صفحہ ۱۴

متفقہ جمع الحديث الى قیاس ابی حنیفہ متفقہ ہیں انھوں نے احادیث کو قیاس ابو حنیفہ کے مطابق کر لیا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ مذاہب فقہ کے ابتدائی بانیوں کے ذہن میں ہرگز وہ تفریقی شدت نہ تھی جو بعد کو وقوع میں آئی۔ مگر یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ عباداتی فقہ کو مختلف مذاہب میں تقسیم کرنے کا کوئی دوسرا نتیجہ بھی نکل نہ سکتا تھا۔ ساری تاریخ بتاتی ہے کہ مابعد الطبیعیاتی امور میں، دوسرے لفظوں میں وہ امور جن کی صداقت کو عقلی طور پر جانچا نہ جا سکتا ہو، انسان بے حد حساس واقع ہوا ہے۔ اس قسم کے امور میں معمولی اختلاف بھی دو انسانی گروہوں کے درمیان ناقابل عبور دیوار کھڑی کر دینے کے لئے کافی ہے۔ مثال کے طور پر قصاص کے بارے میں امام شافعی نے سورہ حج کی آیت ۶۰ سے استدلال کیا ہے کہ کسی شخص سے قصاص اسی خاص ڈھنگ پر لیا جائے گا جس ڈھنگ پر اس نے ظلم کیا ہو۔ مثلاً کسی نے ایک آدمی کو پانی میں ڈبا کر مارا ہے تو اس کو بھی ڈبا کر ہی مارا جائے گا، کسی نے آگ میں جلا کر مارا ہے تو اس کو بھی جلا کر مارا جائے گا۔ مگر حنفیہ اس کے قائل نہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ قتل خواہ کسی طریقہ سے کیا گیا ہو، قاتل سے قصاص ایک ہی معروف طریقہ پر لیا جائے گا۔ قانون کے ماہرین اور علماء کے درمیان قانون کی تعبیر میں اس قسم کے اختلافات ہمیشہ ہوتے ہیں۔ مگر یہ اختلاف فرقہ بندی اور باہمی تعصب پیدا نہیں کرتا۔ اس کے برعکس عبادتی امور میں اتنا سا اختلاف بھی ایک ہی جگہ دو عبادت گاہیں بنوا دیتا ہے کہ نماز با جماعت کے لئے تکبیر کہی جائے تو مقتدیوں کو شروع ہی میں صف بنا کر کھڑا ہو جانا چاہئے یا اس وقت جب مکبر قد قامت الصلوٰۃ کہے۔ اسی لئے کہا گیا ہے: الخلاف فی الدین ينتج من الخصومة اكثر مما ينتج الخلاف فی السياسة ۔ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ مسلمانوں میں باہمی اختلاف کی واحد سب سے بڑی وجہ وہ عبادتی اختلاف ہے جس کو الگ الگ فقہ کی شکل میں مرتب کیا گیا۔ حالانکہ یہ اختلاف جو حقیقۃً انتہائی ضمنی تھا، باعتبارِ حقیقۃً کوئی اہمیت نہ رکھتا تھا۔ وہ چیز جس کو فقہاء ”متعارض روایتوں‘‘ میں ترجیح یا افضلیت تلاش کرتا کہتے ہیں، عبادتی امور میں اکثراوقات غیرضروری ہوتا ہے کیونکہ یہ تعارض حقیقت عبادت کی ضمنی شکلوں میں تنوع کی تصدیق کرتا ہے نہ کہ اختلاف کو بتاتا ہے جس کو ختم کرنے کے لئے کسی علمی مشقت کی ضرورت ہو۔ اسی کے ساتھ ایک نقصان اور بھی ہوا۔ ان جزئیات یا دوسرے لفظوں میں ”تکمیلی احکام‘‘ کی اہمیت ابتدائی فقہاء کے نزدیک اگرچہ اس سے زیادہ نہ تھی کہ عوام کو ایک بنا بنایا مکمل ڈھانچہ دے دیا جائے تاکہ وہ بآسانی ان عبادات کو ادا کر سکیں۔ مگر یہاں بھی انسان کی تاریخی کمزوری ان کے معصوم ارادوں پر غالب آگئی۔ لوگوں نے یہ سمجھا کہ عبادت ایک انتہائی مقررہ عمل کو یکسانیت کے ساتھ دہرانے کا نام ہے۔ اس طرح، اگرچہ اعتقادی طور پر نہیں مگر عملی طور پر حقیقت عبادت کے بجائے شکل عبادت لوگوں کا مقصود بن گیا۔

موجودہ عبادتی فقہ نے، اس طرح، بیک وقت مسلمانوں کو دو تحفے دیئے ہیں۔ ایک اختلاف دوسرے مذہبی جمود۔ اہلِ حدیث کا گروہ اسی فقہی خرابی کو ختم کرنے کے لئے وجود میں آیا تھا۔ مگر وہ خود ایک شدید تر قسم کا فقہی گروہ

‹ Previous page Next page › Contents of June 1978 All issues

Printed page