Al-Risala · June 1978 · page 15

تجدید دین

الرسالہ، جون ۱۹۷۸، صفحہ ۱۵

پیدا کرنے کا سبب بن گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے بھی غلطی کی جوان کے پیش روؤں نے کی تھی۔ "آمین" آہستہ کہی جائے یا بلند آواز سے، امام کے پیچھے فاتحہ پڑھی جائے یا نہ پڑھی جائے، اس قسم کے ضمنی فروق جو عبادتی افعال کے بارے میں روایات میں ملتے ہیں، ان میں سے ہر ایک کو تسلیم کرنے کے بجائے وہ دوبارہ اس کوشش میں لگ گئے کہ ایک کو راجح قرار دے کر بقیہ کو مرجوح ثابت کریں۔ اور اس طرح دوسروں کے بالمقابل خود اپنا ایک "صحیح تر" نظام عبادت مقرر کریں۔ اس قسم کی کوشش صرف ایک نیا فقہی فرقہ وجود میں لاسکتی تھی اور اس نے وہی انجام دیا۔

اس صورت حال کی اصلاح کی صورت یہ ہے کہ عبادتی فقہ کو معاملاتی فقہ سے الگ کر دیا جائے جیسا کہ وہ دوسری صدی ہجری سے پہلے تک الگ تھی۔ معاملاتی فقہ میں اجتہادی تفصیلات یا مزید تعینات نہ صرف جائز بلکہ ضروری ہیں۔ مگر عبادتی فقہ کو صرف انھیں طریقوں کی جمع و ترتیب تک محدود رہنا چاہئے جو صحیح روایات میں موجود ہیں۔ یہاں نہ ترجیح پسندیدہ ہے نہ تخریج۔ جہاں ایک سے زیادہ طریقے ملیں، وہاں ضروری حوالوں کے ساتھ تمام طریقوں کو درج کر دینا چاہئے، بجائے اس کے کہ ایک کو رایج اور دوسرے کو مرجوح ثابت کرنے کی کوشش کی جائے۔ خلیفہ ہارون رشید نے ایک بار ارادہ کیا کہ تمام لوگوں کو حکم دے دیا جائے کہ وہ مسائل میں صرف امام مالک کی فقہی رایوں پر عمل کریں۔ امام موصوف نے خلیفہ کو روک دیا اور فرمایا کہ ایسا نہ کرو۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب فروعات میں مختلف ہوئے ہیں (لا تفعفل فان اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اختلفوا في الفروع (حجة الله) فروعی اختلاف اگر صحابہ کے لئے اجتماعی عبادت گزاری میں مانع نہ تھا تو ہمارے لئے وہ کیوں مانع ہو جائے گا کہ "عوامی ضرورت" کے نام پر دین میں ایسے اضافے کریں جو خدا اور رسول کے دیئے ہوئے توسعات کا دروازہ بند کر دے۔ اس کا غیر مطلوب ہونا اس تاریخی واقعہ سے ثابت ہے کہ ان " اختلافات " کے باوجود صحابہ کا یہ حال تھا کہ وہ بنیان مرصوص (صف) بنے ہوئے تھے۔ اور جب اختلافات کو ختم کر کے یکساں عبادی نظام بنایا گیا تو امت میں ایسا اختلاف پڑا کہ آج تک ختم نہ ہوا۔

دوسری انتہائی ضروری چیز مدارس دینیہ میں تعلیم کے موجودہ منہج کی تبدیلی ہے۔ اس برائی کو امت کے اندر مسلسل باقی رکھنے کا واحد مؤثر عامل یہی ادارہ ہے۔ ہمارے دارالعلوم موجودہ حالات میں، صرف اس بات کا ذریعہ بن گئے ہیں کہ اپنے مخصوص فقہی مسلک کو قرآن وسنت کے مطابق ثابت کر دکھائیں۔ ۱۳۳۰ھ میں رشید رضا مصری ہندوستان آئے تھے۔ اس سلسلہ میں وہ دارالعلوم دیوبند بھی گئے۔ وہاں ان کے خیر مقدم کے لئے ایک جلسہ ہوا۔ اس موقع پر موصوف نے دارالعلوم کے ایک استاد سے پوچھا کہ یہاں حدیث کے درس کا طریقہ کیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ جب حدیث پڑھی جاتی ہے تو محدث پہلے اس کے علمی نکات کو بیان کرتا ہے۔ اگر بادی الر ائے میں حدیث امام ابوحنیفہ کے مسلک کے خلاف ہوتی ہے تو محدث حنفی مسلک سے اس کی مطابقت ثابت کرتا ہے۔ رشید رضا نے یہ سن کر کہا، کیا یہی تمام احادیث میں ہوتا ہے۔ کہا گیا ہاں۔ انھیں یہ بات بہت عجیب معلوم ہوئی۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1978 All issues

Printed page