Al-Risala · June 1978 · page 16

تجدید دین

الرسالہ، جون ۱۹۷۸، صفحہ ۱۶

مولانا محمد یوسف بنوری کی روایت کے مطابق (تحفۃ العبر صفحہ اے) انھوں نے کہا:

کیا حدیث بھی حنفی ہے۔ ایسا کس طرح ہوسکتا ہے۔

ہل الحدیث حنفی، وکیف یمکن ذلک وہل یہ تو محض عصبیت ہے جس کے لئے کوئی دلیل نہیں۔

مولانا انور شاہ کشمیری اس زمانہ میں دارالعلوم میں حدیث کے استاد تھے۔ انھیں یہ خبر پہنچی تو انھوں نے اپنی خیر مقدمی تقریر میں اسی کو اپنا موضوع بنایا اور "ثابت" کر دیا کہ تمام حدیثیں فقہ حنفی کے مطابق ہیں۔ تاہم مولانا انور شاہ کشمیری (م ۱۹۳۳ء - ۱۸۷۵ء) کو آخر عمر میں اس طریق تعلیم کی خامی کا احساس ہو گیا تھا۔ موصوف کے شاگرد مولانا مفتی محمد شفیع (۱۹۷۶ - ناقل ہیں کہ مولانا کشمیری نے ان سے کہا: "ہماری تمام کد و کاوش کا خلاصہ یہ رہا ہے کہ دوسرے مسلکوں پر حنفیت کی ترجیح قائم کریں۔ مگر کیا حاصل ہے اس کا اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم زیادہ سے زیادہ اپنے مسلک کو صواب محتمل الخطاءءثابت کریں اور دوسرے مسلک کو خطا محتمل الصواب کہیں ۔ ہم تمام تر تحقیق و کاوش کے بعد یہی کہہ سکتے ہیں کہ یہ صحیح ہے لیکن احتمال موجود ہے کہ یہ خطا ہو۔ اور وہ خطا ہے اس احتمال کے ساتھ کہ وہ صواب ہو۔ قبر میں منکر نکیر یہ نہیں پوچھیں گے کہ رفع یدین حق تھا یا ترک رفع یدین حق تھا۔ آمین بالجہر حق تھی یا بالسرحق تھی۔ جس چیز کو نہ دنیا میں نکھر نا ہے نہ محشر میں۔ اس کے پیچھے پڑ کر ہم نے اپنی عمر ضائع کر دی۔ اور جو صحیح اسلام کی دعوت تھی جس کی دعوت انبیاء کرام لے کر آئے تھے۔ آج وہ دعوت تو نہیں دی جا رہی۔ ہم لگے ہوئے ہیں ان فردی بحثوں میں۔ " (جمعیتہ دہلی)

ہمارے عربی مدارس ، خواہ وہ کسی بھی مسلک کے تحت قائم ہوئے ہوں، ان میں شیخ الحدیث کا منصب اسی قسم کی فقہی پہلوانی کے لئے خاص ہو گیا ہے۔ یہاں ایسے لوگ پیدا ہوتے ہیں جو بظاہر عالم دین کی سند لے کر نکلتے ہیں مگر حقیقتاً وہ عالم اختلاف ہوتے ہیں۔ وہ علم دین کا کمال یہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے فقہی مذاہب کے مقابلہ میں اپنی فقہ کو صحیح ثابت کر دکھائیں۔ وہ چھوٹے چھوٹے دینی فروق کو لے کر ان کی بنیاد پر اکھاڑے قائم کرتے ہیں اور ساری امت کو ایسے جدال و نزاع میں الجھا دیتے ہیں جو کبھی ختم ہونے والا نہیں ۔ مزید یہ کہ غیر اہم فقہی فروغ کو اہم ترین دینی مسئلہ بنا کر وہ عوام کے اندر یہ ذہن پیدا کرتے ہیں کہ عبادت اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ فلاں مخصوص اشکال کے بجائے فلاں مخصوص اشکال کے ساتھ اس کو دہرایا جائے۔ مدارس دینیہ میں جب تک اس قسم کی نسل پیدا کرنے کا سلسلہ بند نہ کیا جائے عوام کی اصلاح نہیں ہوسکتی۔ ان مدارس کے سلسلے میں کم سے کم جو بات کہی جاسکتی ہے وہ یہ کہ امت واحدہ کو انھوں نے امت متفرقہ میں تبدیل کر کے رکھ دیا ہے:

الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا، كُلُّ حِزْبٍ جنہوں نے ٹکڑےٹکڑےکرلیا اپنے دین کو اور ہو گئے فرقے بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ روم - ۳۲ فرقے، ہر گروہ اسی میں خوش ہے جو اس کے پاس ہے۔

۲- اس سلسلے کی دوسری چیز وہ ہے جس کو تصوف کہتے ہیں۔ پہلا شخص جس کو اسلام کی تاریخ میں "صوفی" کے لفظ سے پکارا گیا، غالباً ابو ہاشم الصوفی (۱۵۰ ھ) تھے۔ تا ہم اس وقت تک صوفی کے معنی صرف یہ تھے کہ وہ شخص جو زہد

‹ Previous page Next page › Contents of June 1978 All issues

Printed page