Al-Risala · June 1978 · page 17

تجدید دین

الرسالہ، جون ۱۹۷۸، صفحہ ۱۷

اور عبادت میں غلو کرے چونکہ یہ لوگ اچھے لباس کو چھوڑ کر صوف (اون) کے معمولی کپڑے اپنے جسم پر لپیٹ لیتے تھے، اس لئے انھیں صوفی کہا جانے لگا۔ اس کے بعد اس کے قواعد اور اصطلاحات بننے لگے۔ یہاں تک کہ تیسری صدی ہجری میں سچ مچ تصوف نے اسلامی روحانیت کے ایک باقاعوہ فن کی شکل اختیار کر لی۔ اشراقی فلسفہ، رہبانیت اور ویدانت میں اس کے لئے کافی مواد تھا۔ اس طرح مختلف بیرونی عناصر کی مدد سے ایک ایسی چیز وجود میں آئی، جس پر اگرچہ اسلام کا لیبل لگا ہوا تھا، مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ ایک متوازی مذہب تھا جو اسلام کے اسلام کے بالمقابل بنایا گیا ۔

تصوف کی ایک قسم وہ ہے جس کو " باطنیت‘‘ " کہا جاتا ہے ۔ تیسری صدی ہجری میں، خاص طور پر ایران میں، کچھ لوگ ایسے پیدا ہوئے جن کا کہنا تھا:

ان للقرآن ظاهراً وباطنا، والمراد باطنه قرآن کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن ہے، اور مقصود باطن ہی ہے ۔

اسی لئے وہ باطنیہ کے نام سے مشہور ہوئے۔ علماء کے متفقہ فیصلہ کے مطابق یہ زنادقہ کا گروہ تھا جس نے اپنی اباحیت اور بے عملی کو چھپانے کے لئے یہ نظریہ گھڑ لیا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ الصوفی لا مذہب لہ (صوفی کا کوئی مذہب نہیں) اس فرقہ کے ایک شخص سے کہا گیا، تم نماز نہیں پڑھتے (الا تصلی اس نے جواب دیا:

انتم مع ادراكم ونحن مع دار داتنا تم اپنے اور ما میں ہو اور ہم اپنی وار دات میں ان کا عقیدہ تھا کہ شریعت کے مکلف عوام ہیں نہ کہ خواص (ان التکلیف خاص بالعوام ، ساقط بالخواص)۔ اسی طرح دہ لوگ ہیں جو حلول اور اتحاد کے قائل تھے اور کہتے تھے کہ سالک جب اپنے سلوک کی آخری منزل پر پہنچتا ہے تو خدا اس کے اندر اتر آتا ہے۔ اس وقت بندے اور خدا میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ حتیٰ کہ اس کے لئے یہ کہنا صحیح ہو جاتا ہے کہ ھو انا وانا ھو وہ میں ہے ، ا میں وہ ہوں) اسی طرح وحدت الوجو د کا نظریہ جس کے تحت ابو حسین الحلاج نے کہا تھا ما فی الجبّة الا اللہ چنانچہ علماء نے ان کے ارتداد کا فتویٰ دیا اور وہ مقتدر کی خلافت میں ۳۰۹ ھ میں قتل کر دیئے گئے۔ اسی طرح تصوف کے وہ طریقے جو سماع و رقص کو خدا تک پہنچنے کا ذریعہ بتاتے ہیں حتیٰ کہ ایسے لوگ بھی ہیں جو امر پرستی کو قرب الہی کا سبب سمجھتے ہیں ۔ اس کے جواز کے لئے انھوں نے ایک حدیث بھی گھڑ رکھی ہے اور وہ یہ ہے کہ میں نے اپنے رب کو جوان مرد کی صورت میں دیکھا ( رأیت ربی فی صورة شاب امرد)

تا ہم تصوف کی ان شکلوں پر یہاں ہم کوئی گفتگو نہیں کریں گے۔ کیونکہ علماء متفقہ طور پر ان کی ضلالت کا فتویٰ دے چکے ہیں ۔ ہماری گفتگو تمام تر تصوف کے ان طریقوں تک محدود ہو گی جن کو امت کے اندر قبول عام حاصل ہوا، اور جن کو اب تک بے شمار لوگ نجات کا سب سے قریبی ذریعہ سمجھے ہوئے ہیں ۔

اس تصوف کی دو قسمیں ہیں ۔ ایک مسنون تعبدی طریقوں میں مقداری اضافہ۔ دوسرے مسنون تعبدی طریقوں پر نوعی اضافہ۔ پہلے طریقہ کے بارے میں ابو القاسم جنید بغدادی (297ھ) نے کہا ہے:

‹ Previous page Next page › Contents of June 1978 All issues

Printed page