تجدید دین
الرسالہ، جون ۱۹۷۸، صفحہ ۱۸
مذہبنا هذا مقيد بالكتاب والسنة ہمارا یہ طریقہ کتاب وسنت کے ساتھ مقید ہے۔ ابتدائی دور کے صوفیاء (اگر انہیں یہ لقب دیا جاسکے) میں یہی پہلی قسم کا تصوف رائج تھا، ان لوگوں نے نماز، روزہ، تلاوت قرآن وغیرہ جو بندات خود مسنون طریق عبادت ہیں، ان کی مقدار میں وہ حد بندی باقی نہ رکھی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت تھی۔ مثلاً پانچ وقتہ نمازوں کے علاوہ آپ رات کے پچھلے پہر کچھ رکعتیں (اکثر گیارہ رکعتیں) ادا فرماتے تھے۔ ان بزرگوں نے ساری رات نماز پڑھنی شروع کر دی۔ آپ فرض روزوں کے علاوہ مہینہ میں چند دن مزید روزے رکھ لیتے تھے۔ ان حضرات نے مسلسل روزے رکھنے شروع کر دیئے جس کو صوم وصال کہا جاتا ہے۔ آپ مخصوص اوقات میں قرآن کا کوئی حصہ پڑھ لیا کرتے تھے۔ انھوں نے ہر وقت بس قرآن ہی پڑھنا شروع کر دیا ۔ حتی کہ اگر امام نووی کا بیان صحیح ہو تو ان میں ایسے لوگ بھی ہوئے جو ہر روز آٹھ بار پورا قرآن ختم کر لیتے تھے۔ وغیرہ عبادت کے مسنون طریقوں میں اس قسم کا اضافہ صراحتاً ممنوع قرار دیا گیا تھا۔ بخاری و مسلم نے حضرت انس سے عبادت کے ستون طریقوں میں اس عمل ہم کا اضافہ صراحتہ روایت کیا ہے :
جاء ثلاثة رهط الی بیوت ازواج النبی صلی الله علیہ وسلم یسئلون عن عبادة النبی صلی الله علیه وسلم ۔ فلما أخبروا كانهم تقالوها ۔ فقالوا، واين نحن من رسول الله وقد غفر له ما تقدم سودا قرار دیا گیا تھا۔ بخاری و مسلم نے حضرت انس سے تین مسلمان ازواج رسول ﷺ کے گھروں پر آئے اور آپ کی عبادت کے بارے میں دریافت کیا۔ جب انھیں بتایا گیا تو انھیں آپ کی عبادت بہت کم معلوم ہوئی۔ انھوں نے کہا، رسول اللہ سے ہمارا کیا مقابلہ۔ آپ کے تو تمام اگلے پچھلے من ذنبه وما تاخر - فقال احدهم : اما انا فاصلی اللیل ابدا - وقال آخر : انا اصوم الدهر ولا افطر - وقال آخر : انا اعتزل النساء فلا اتزوج ابدا - فجاء رسول الله صلى الله علیه وسلم فقال : انتم الذین قلتم كذا وكذا - اما والله لا نی لا خشاکم لله و اتّقاکم له ، بكنی اصوم واصلی و ارقد واتزوج النساء ، فمن رغب عن سنّتی فلیس منی ایک اور روایت اس طرح سے ہے :
اخر ج ابن جریر و عبد الر زاق وابن المنذر گناہ معاف کردیئے گئے ہیں۔ پھر ان میں سے ایک نے کہا: میں تو رات بھر نمازیں پڑھوں گا۔ دوسرے نے کہا، میں مسلسل روزے رکھوں گا۔ تیسرے نے کہا، میں تجرد کی زندگی اختیار کروں گا اور عورتوں سے کوئی تعلق نہ رکھوں گا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تم ہی وہ لوگ ہو جنہوں نے ایسا اور ایسا کہا ہے ۔ سنو، خدا کی قسم میں تم سب میں زیادہ خدا سے ڈرنے والا اور متقی ہوں۔ مگر میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا۔ نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں۔ اور عورتوں سے نکاح کرتا ہوں۔ یہ میری سنت ہے اور جو میری سنت کو چھوڑے وہ مجھ سے نہیں ۔
آپؐ کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں نے ارادہ کیا کہ دنیا
‹ Previous page Next page › Contents of June 1978 All issues