Al-Risala · June 1978 · page 19

تجدید دین

الرسالہ، جون ۱۹۷۸، صفحہ ۱۹

عن ابی قلابة قال: اسرا دناس من اصحاب النبی کو ترک کر دیں اور عورتوں سے قطع تعلق کر لیں اور راہب بن جائیں۔ رسول اللہ کو معلوم ہوا تو آپ وعظ کے لئے کھڑے ہوئے اور ان کے متعلق سخت گفتگو فرمائی۔

آپ نے کہا تم سے پہلے جو لوگ ہلاک ہوئے وہ اسی قسم کی شدت کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ انھوں نے اپنے اوپر علیھم ۔ فاوُلئک بقایابھم فی الدیار والصوامع ۔ شدت کی تو اللہ نے بھی ان پر شدت کی۔ انھیں کی بقایا یہ اعبدوا اللہ ولا تشرکوا بہ شیئا و حجّوا و اعتمرداً جو صوامع میں ہے۔ تم لوگ اللہ کی عبادات کرو، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو۔ حج کرو، عمرہ کرو اور سیدھے رہو، تمھارے ساتھ سیدھا معاملہ کیا جائے گا۔

ان "عباد و زہاد" کی مدافعت میں جو لٹریچر تیار ہوا، اس کا خلاصہ مولانا عبد الحي لکھنوی (۱۳۰۳ - ۱۴۷۴ھ) کی کتاب اقامۃ الحجۃ علی ان الاكثار فی التعبد ليس ببدعة (حلب - ۱۹۶۶ء) میں دیکھا جا سکتا ہے ۔ تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ ان تمام دلائل کی قدر و قیمت صرف اس وقت تک ہے جب کہ متعلقہ" اکابر" کے عمل کا لازماً صحیح ہونا بطور پیشگی مفروضہ کے مان لیا جائے ۔ اگر اس مفروضہ کو ذہن سے نکال دیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان توجیہات کی علمی اعتبار سے کوئی حقیقت نہیں۔ مثال کے طور پر کہا جاتا ہے کہ پیغمبر اسلام نے اپنی امت پر شفقت کی وجہ سے کم عبادتیں کیں، کیونکہ آپ اگر زیادہ عبادت کرتے تو ساری امت پر ویسا ہی کرنا فرض ہو جاتا (کان يترك كثرة العبادات شفقة على امته درحمة علی اتباعه لئلا يتحرجوا باتباعھم فی ذلک)

اس استدلال کی کمزوری اس واقعہ سے ثابت ہے کہ عبادت میں تشدد کے بجائے آپ کا اعتدال اگراست پرشفقت کی وجہ سے تھا تو آپ نے دوسرے معاملہ میں لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَن لَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (شعراء - ۳) کا اسوہ اپنی امت کے لئے کیوں چھوڑا ۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالی اپنے مومن بندوں سے یہ مطلوب ہی نہیں کہ وہ اس قسم کے کرشمے دکھائیں کہ مغرب کے وضو سے فجر کی نماز پچاس سال تک پڑھتے رہیں اور روزانہ آٹھ آٹھ بار قرآن "ختم" کر ڈالیں۔ اپنے جسم کو غیر ضروری مشقت میں ڈالنا یا رات دن کچھ اشکال عبادت کو دہراتے رہنا وہ چیز نہیں جو اللہ تعالی کو مطلوب ہو۔ اس کو جو چیز مطلوب ہے وہ اندرونی طور پر قوی ہے کہ اس کے بندے اس کی محبت اور خوف سے سرشار ہوں۔ اور خارجی طور پر یہ کہ ایک طرف اپنے عمل کو زندگی کی تمام سرگرمیوں میں خدائی تعلیم کے مطابق بنائیں ، اور دوسری طرف دوسرے بندگان خدا کو اللہ کے دائرہ میں لانے کی کوشش کریں۔ بعد کے بزرگوں کے بارے میں کثرت عبادت" کے افسانے ، اگر بالفرض صحیح ہوں تب بھی یہ وہ دین نہیں جو پیغمبر عربی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا کی طرف سے لائے اور جو قرآن و سنت کی شکل میں اب بھی ہمارے پاس پوری طرح محفوظ ہے۔ اس قسم کے کمالات جو بعد کے لوگوں سے منقول ہیں، بلاشبہ ان کا ہدی محمدی سے کوئی تعلق نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1978 All issues

Printed page