تجدید دین
الرسالہ، جون ۱۹۷۸، صفحہ ۲۰
مگر در دزوال کی علامتوں میں سے ایک علامت یہ بھی ہے کہ اپنے رجال پر تنقید کی جرات ختم ہو جاتی ہے۔ چنانچہ اس قسم کے اعمال پر نکیر کے بجائے ان کی توجیہہ بلکہ تحسین شروع ہو گئی۔ حتی کہ رفتہ رفتہ وہ اس قدر مقدس ہو گئے کہ اب کسی کے لئے یہ سوچنا بھی محال ہو گیا کہ ان میں کوئی نقص ہے۔ حافظ ذہبی (748ھ) اور ابن تیمیه (۷۲۸ھ) کا تشد د صوفیاء کے بارے میں مشہور ہے۔ مگر ان کا بھی یہ حال ہے کہ کسی کی مدح و ثنا کے ذیل میں کثرت عبادت کے قصے نقد و جرح کے بغیر نقل کر دیتے ہیں۔ حالاں کہ یہ قصے باعتبار واقعہ بھی اکثر نا قابل اعتبار ہوتے ہیں اور دین کی حقیقت سے تو ان کا کوئی تعلق ہی نہیں ۔ یہی حال ہماری اکثر کتابوں کا ہے ۔
تصوف کی دوسری شکل ، تعبدی امور میں نوعی اضافہ کا معاملہ، پہلی سے بھی زیادہ شدید ہے۔ پہلا اگر قرآن کے الفاظ میں اعتدار (اعراف - ۵۵) ہے تو دوسرا ابتداع (حدید - ۲۷) اور معلوم ہے کہ دین میں احداث اور ابتداع، خواہ وہ اچھی نیت ہی سے کیوں نہ ہو، قطعاً مردود ہے۔ بخاری و مسلم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کیا ہے : من احدث فی امرنا هذا ما ليس منه فهو رد جو ہمارے دین میں کوئی نئی چیز لائے وہ رد ہے امام نزادہ جو فی سمرقندی (۳۷۱ھ) نے اپنی کتاب شریعۃ الاسلام میں صحابہ کے بارے میں لکھا ہے : وقد كانت الصحابة ينكرون اشد الانكار صحابہ اس شخص کے خلاف شدید ترین انکار کرتے تھے علی من احدث او ابتداع رسالم متیھد ولا جو کوئی ایسا طریقہ نکالے جس کو انھوں نے نبوت کے فى عهد النبوة قل ذلك او اكثر صغير ذلك اد زمانہ میں نہ دیکھا ہو خواہ وہ کم ہو یا زیادہ ، چھوٹا ہو کبیر (صفحه (۹) یا بڑا۔
صحابہ کا یہ شدید رویہ عبادات کے بارے میں تھا، معاملات کے بارے میں نہ تھا۔ معاملات انسانی کا بہت گہرا تعلق دنیا کے عملی حالات سے ہے جو ہمیشہ یکساں نہیں رہتے۔ اس لئے اس میں صراحتاً نئے فیصلوں کی اجازت دی گئی ہے جس کو قرآن میں استنباط (نساء - ۸۳) اور حدیث میں اجتہاد (معاذ بن جبل ) کہا گیا ہے۔ مگر عبادت کا تعلق ازلی و ابدی ہستی کے ساتھ انسان کے رویہ سے ہے اس لئے اس میں کسی تبدیلی اور اضافے کا سوال نہیں۔ تدریجی حکمت یا معذوری کی بنا پر کسی کے ساتھ رعایت تو کی جاسکتی ہے مگر اپنی طرف سے قیاسی اضافہ نہیں کیا جاسکتا۔ عبادات کے معاملہ میں صرف اتباع ہے۔ عبداللہ بن مسعودؓ نے فرمایا اتبعوا ولا تبتدعوا (اتباع کرو، نئی چیز نہ نکالو) معاملات کے باب میں مسلسل اجتہاد کیا گیا۔ مگر کسی صحابی نے تکیر نہ کی۔ مگر عبادات میں ذرا سا نیا پن بھی ان کے لئے ناقابل برداشت ہوتا تھا ۔ عبد اللہ بن مغفل کے صاحبزادہ کہتے ہیں :
سمعنی ابی دانا فی الصلاة اقول : بسم الله الرحمن میرے باپ نے مجھ کو نماز میں کہتے ہوئے سنا "بسم الله الرحيم فقال لى : أي بني مُحَدث، اياك والمحدث، الرحمن الرحيم" تو مجھ سے کہا، میرے بیٹے یہ نئی چیز ہے اور تم کو چاہئے کہ نئی چیز سے بچو۔ سے (ترمذی ، نسائی، ابن ماجہ، بیہقی )
یہ دفتنی کیفیت کے تحت حمد یا دعا کا کلمہ زبان سے نکل پڑے تو جائز ہے مگر اس کو مسئلہ بنانا جائز نہیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1978 All issues