Al-Risala · June 1978 · page 21

یا ایہا الناس انہ قد سنت لكم السنن و فرضت

الرسالہ، جون ۱۹۷۸، صفحہ ۲۱

معاملاتِ انسانی کی نوعیت چونکہ دنیوی حالات کی تبدیلی سے بدلتی رہتی ہے، اس لئے اس میں اجتہاد کی اجازت دی گئی تھی۔ مگر عبادات و روحانیات کے پہلو سے جو کچھ مطلوب ہے، اس میں کمی بیشی کا سوال ننئیں۔ اس میں صرف اتباع ہے۔ ابن عبدالبر نے جامع بیان العلم وفضلہ میں سعید بن مسیب سے نقل کیا ہے کہ حضرت عمر نے خطبہ دیا اور اس میں فرمایا:

یا ایہا الناس انہ قد سنت لكم السنن و فرضت

تمھارے لئے فرائض مقرر کر دیئے گئے۔ اور تم ایک واضح لكم الفیءائض و تركتم علی الواضحة، الا ان تضلوا امر پر چھوڑ دیئے گئے۔ خبردار لوگوں کے ساتھ دائیں بالناس يمينا وشمالا (جزر ثانی، صفحه ، ۱۸) بائیں نہ بھٹک جانا۔

نبوت کے بعد امت مسلمہ کے اندر جو فتنے پیدا ہوئے، ان کو شاہ ولی اللہ نے تیس تک شمار کیا ہے۔ دسواں فتنہ ان کے الفاظ میں یہ ہے۔ " سنت مأثورہ میں جو اورادو وظائف آگئے ہیں، ان کے علاوہ اپنی طرف سے مزید اورادو وظائف کا بہ نیت تقرب الی اللہ عزوجل یعنی ثواب پانے کی غرض سے اختراع کرنا اور امور مستحبہ کومثل واجبات کے اپنے ذمہ لازم کر لینا اور لوگوں میں ان وظائف کے پھیلانے کی رغبت کا دلوں میں پیدا ہونا (ازالة الخفا) شاہ صاحب نے اس سلسلہ میں جو روایتیں نقل کی ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے:

دارمی نے حکم بن مبارک سے روایت کی ہے، وہ کہتے تھے ہمیں عمروبن یحییٰ نے خبردی، وہ کہتے تھے میں نے اپنے والد سے سنا، وہ اپنے والد سے نقل کرتے تھے، وہ کہتے تھے کہ ہم نماز فجر سے پہلے عبداللہ بن مسعود کے دروازہ پر جاکر بیٹھ رہتے تھے۔ جب وہ اپنے گھر سے نکلتے تو ہم ان کے ساتھ مسجد میں جاتے تھے۔ ایک روز ابن مسعود کے مکان پر وقت معهود ابوموسیٰ اشعری آئے اور ہم سے پوچھا کیا ابو عبدالرحمن (عبداللہ بن مسعود) گھر سے نکلے۔ ہم نے جواب دیا کہ ابھی نہیں نکلے۔ یہ سن کر وہ ہمارے پاس بیٹھ گئے۔ یہاں تک کہ عبداللہ بن مسعود گھر سے برآمد ہوئے ۔ اور ہم لوگ ان کے ساتھ اٹھ کر چلے۔ پھر ان سے ابوموسیٰ نے کہا، اے ابوعبدالرحمن، میں نے ابھی مسجد میں ایک ہی بات دیکھی۔ مگر الحمد للہ میں نے اچھی بات دیکھی۔ عبداللہ بن مسعود نے پوچھا ، تم نے کیا دیکھا۔ ابوموسیٰ نے کہا کہ اگر مسجد پہنچے تک آپ زندہ رہے تو آپ بھی دیکھ لیں گے۔ پھر کہا، میں نے مسجد میں لوگوں کو دیکھا کہ وہ جدا جدا حلقے کر کے بیٹھے ہیں اور نماز کا انتظار کر رہے ہیں۔ ہر حلقہ میں ایک ایک شخص ہے جس کے ہاتھ میں سنگریزے ہیں، وہ کہتا ہے: سو مرتبہ اللہ اکبر کہو، سب لوگ سو بار اللہ اکبر کہتے ہیں اور ان سنگریزوں پر گنتے جاتے ہیں۔ پھر وہ کہتا ہے سو بار لا الہ الا اللہ کہو، سب لوگ سو بار لا الہ الا اللہ کہتے ہیں۔ پھر وہ کہتا ہے سو بار سبحان اللہ کہو، سب لوگ سو بار سبحان اللہ کہتے ہیں۔ یہ سن کر عبداللہ بن مسعود نے پوچھا کہ پھر تم نے ان سے کیا کہا۔ ابوموسیٰ نے جواب دیا، آپ کی رائے اور آپ کے حکم کے انتظار میں میں نے ان سے کچھ نہیں کہا۔ انھوں نے کہا، تم نے کیوں نہ ان کو حکم دیا کہ ان سنگریزوں پر تکبیر و تہلیل و تسبیح کے بجائے وہ لوگ اپنے اپنے گناہوں کو شمار کریں۔ اور تم نے ان سے اس بات کی ذمہ داری کیوں نہ لی کہ ان کی نیکیوں میں سے کچھ ضائع نہ ہوگا۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1978 All issues

Printed page