وصفی زبان
الرسالہ، جون ۱۹۷۸، صفحہ ۲۲
شمار کرنا ہے کار ہے۔ یہ ہ کر ابن مسعود چلے اور ہم سب ان کے ساتھ چلے۔ یہاں تک کہ وہ ان حلقوں میں سے ایک حلقہ کے پاس پہنچ کر ٹھہر گئے۔ اور ان لوگوں سے پوچھا کہ تم کیا کر رہے ہو۔ انھوں نے جواب دیا، اے ابو عبدالرحعن ہم ان سنگریزوں سے تکبیر اور تہلیل اور تسبیح کے کلمات شمار کرتے ہیں۔ ابن مسعود نے کہا، اس کے بجائے تم لوگ اپنے اپنے گناہوں کو شمار کرو اور میں ضامن ہوتا ہوں کہ تمھاری نیکیوں میں سے کوئی نیکی ضائع نہ ہوگی۔ اے امت محمد! تمھارا برا ہو۔ تمھاری ہلاکت کتنی جلد آ گئی۔ ابھی تمھارے نبی کے اصحاب کثرت سے موجود ہیں۔ تمھارے نبی کے کپڑے ابھی بوسیدہ نہیں ہوئے اور آپ کے برتن ابھی نہیں ٹوٹے۔ مگر تم ابھی سے بدعتیں ایجاد کرنے لگے۔ قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یا تو تم ایک ایسے دین پر ہو جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین سے زیادہ راہ راست پر ہے یا تم گمراہی کے دروازہ پر پہنچ گئے ہو اور وہ دروازہ کھولنے والا ہے۔ ان لوگوں نے جواب دیا، اے ابو عبدالرحمن خدا کی قسم، ہم اس فعل سے نیکی ہی کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ابن مسعود نے کہا، بہت سے نیکی کا ارادہ کرنے والے ایسے ہیں کہ انھیں نیکی نہیں ملتی۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا ہے کہ بہت سے لوگ قرآن پڑھیں گے مگر قرآن ان کے گلے سے تجاوز نہ کرے گا۔ خدا کی قسم میں نہیں جانتا شاید تم میں اکثر ایسے لوگ ہوں۔ (ازالۃ الخفاء من خلافۃ الخلفاء، مقصد اول)
یہ روایت جس کو دارمی کے علاوہ طبرانی نے اور ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء میں مختلف الفاظ کے ساتھ نقل کیا ہے، یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ عبادتی امور میں صحابہ کس قدر حساس تھے اور معمولی جدت کو بھی انتہائی طور پر ناپسند کرتے تھے ۔ کجا کہ یہ اضافے اتنے زیادہ ہو جائیں کہ وہ متوازی مذہب بن جائے اور باقاعدہ اس کے ماہرین اور معلمین پیدا ہونے لگیں۔
وصفی زبان
تصوف کا ابتدائی محرک یہ تھا کہ فقہ ظاہر کی طرح ایک فقہ باطن بنائی جائے اور اس کے قواعد وضع کئے جائیں ۔ مگر یہ کوئی سادہ بات نہ تھی ۔ یہ ایک کیفی حقیقت کو صوفی زبان (DESCRIPTIVE LANGUAGE) میں بیان کرنا تھا۔ فنی اصطلاحات کی زبان کسی شے کے صرف خارجی پہلوؤں کا احاطہ کر سکتی ہے ، اس لئے بندے اور خدا کے درمیان تعلق جیسے معاملہ کو فن کا موضوع بنانا دین میں ایک قسم کے خلل تفریق کو جگہ دینا تھا کہ یہ ایسا ہی تھا جیسے کیفیت محبت کے بیان کے لئے ریاضیاتی زبان کو استعمال کیا جائے۔ اس کوشش نے عبادت الہی کے کیفی پہلو کو اس کے خارجی مظاہر سے الگ کر دیا۔ ذکر نے ورد کی صورت اختیار کرلی اور کثرت ذکر کے معنی یہ ہو گئے کہ کچھ مخصوص الفاظ کو تسبیح کے دانوں پر تکرار دہرایا جاتا ر ہے۔ اسی طرح تدبر قرآن (محمد۔ ۲۴) تلاوت قرآن بن گیا۔ کیونکہ متصوفانہ ذوق کے مطابق مقداری پیمانہ میں ناپنے کی چیز تلاوت ہے نہ کہ تدبر و تفکر، یہی وجہ ہے کہ متصوفانہ اذکار کی طویل فہرست میں ہم اللہ اور لا الہ الا اللہ جیسے الفاظ کا ذکر تو پاتے ہیں مگر دوسری بہت سی چیزیں جن کے
‹ Previous page Next page › Contents of June 1978 All issues