وصفی زبان
الرسالہ، جون ۱۹۷۸، صفحہ ۲۳
ذکر کو دین میں بے حد اہمیت دی گئی ہے، اس فہرست میں درج نہیں۔ مثلاً آخرت (مدثر۔ ۵۵) نعمت الہی (مائدہ۔ ۲۰) آلارب (اعراف۔ ۶۹) موت (اکثروا ذکر هادم اللذات) وغیرہ کیونکہ اللہ اللہ کا درد تو کیا جا سکتا ہے۔ مگر آخرت آخرت، نعمت نعمت، آلار آلار، موت موت کا درد ایک بے معنی بات ہے۔
جب تعلق مع اللہ ایک خارجی طور پر قابل بیان چیز بن گیا تو اس کے بعد بالکل فطری طور پر یہ ہوا کہ اس کے حصول کے خارجی طریقے وضع ہونے شروع ہو گئے ۔ محض قیاس کی بنیاد پر یہ فرض کر لیا گیا کہ انسان کے بدن میں چھ مقامات ہیں جہاں انوار و برکات بھرے ہوتے ہیں۔ ان کو لطائف ستہ کا نام دیا گیا ۔ اول لطیفہ قلبی جس کی جگہ بائیں پستان کے نیچے ہے۔ دوسرا لطیفہ روحی جس کا مقام دائیں پستان کے اوپر ہے۔ تیسرا لطیفہ نفس جس کا مقام ناف کے نیچے ہے ۔ چوتھا لطیفہ سری جس کا مقام سینہ کے درمیان ہے۔ پانچواں لطیفہ اخفی جس کا مقام ابرو کے اوپر ہے، چھٹا لطیفہ خفی جس کا مقام ام الدماغ ہے۔ اس مفروضہ کی بنا پر عجیب عجیب قسم کے اشغال، ضربات اور مراقبے وضع کئے گئے جن کا مقصد یہ تھا کہ ان مقامات انوار پر زور ڈال کر ان کو جاری کیا جائے تاکہ سارا جسم اللہ اللہ پکارنے لگے۔ مثال کے طور پر ایک طریقہ یہ ہے کہ دونوں آنکھیں اور دونوں لب بند کر کے سانس کو ناف کے نیچے سے نکال کر قلب میں بس کرے اور لاکو (تصور میں) ناف سے اٹھا کر گلے تک پہنچا کر اللہ کو گلے سے لطیفہ روحی کے مقام تک لاکر الا اللہ کی ضرب خوب زور سے اس طرح دل پر لگائے کہ ضرب کا اثر تمام لطیفوں تک پہنچ جائے ۔ اس طرح کی بے شمار چیزیں حیرت انگیز جسارت کے ساتھ وضع کی گئیں اور ان کو دین کے عبادتی نظام میں ”معاون ذریعہ،، کی حیثیت سے داخل کر دیا گیا۔ تاہم معادن فرعیہ کا لفظ بھی محض رعایتی تھا کیونکہ بعض ظاہری کرشموں کی وجہ سے عام طور پر یہ ذہن بن گیا کہ معروف دینی طریقوں کے مقابلہ میں یہ طریقے حصول مقصد کے لئے زیادہ مفید ہیں۔ ایک مشہور بزرگ فرماتے ہیں کہ خدا تک پہنچنے کے تین طریقے ہیں جن میں سے ایک طریقہ صوم وصلوۃ اور تلاوت قرآن وغیرہ کا ہے، مگر:
روندگان ایں راہ در زمان طویل بمقصود رسند اس راہ کے چلنے والے بہت لمبی مدت میں اپنی منزل مقصود کو پہنچتے ہیں۔
تصوف کے طریقے کی حمایت کرتے ہوئے ایک اور بزرگ لکھتے ہیں:
اس راہ کے چلنے والے بہت لمبی مدت میں اپنی منزل مقصود کو پہنچتے ہیں۔
النفس وتربيتها بين التصون (الحياة دمشق ۱۹۶۳ ، ۳۳ لئے یہ زیادہ بہتر اور تیز تر طریقہ ہے۔
ہمارے بزرگوں کو یہ غلط فہمی صرف اس لئے ہوئی کہ انھوں نے کیفیت نفسی اور کیفیت عادی میں فرق نہیں کیا۔ رگ کیماس کو دبانا اور اعوجاج عنق اور پاس انفاس جیسے عملیاتی طریقوں کی مدد سے کچھ مخصوص الفاظ (یا آوازوں) کو خاص طرح سے ادا کرنے کی مشق کرنا، یہ نتیجہ دکھا سکتا ہے کہ وہ الفاظ یا آوازیں انسان کے طبعی وظائف میں غیر شعوری طور پر شامل ہو جائیں۔ مگر اس لفظی ورزش کا اسلام سے کیا تعلق ، اس قسم کی کوئی مشق کسی کے اندر یہ طبیعت پیدا کر دے کہ وہ اپنے دل کی دھڑکنوں یا سانس کے آنے جانے میں اللہ اللہ کی آواز سننے لگے تو کسی بھی درجے میں وہ چیز نہیں ہے
‹ Previous page Next page › Contents of June 1978 All issues