وصفی زبان
الرسالہ، جون ۱۹۷۸، صفحہ ۴۳
جس کو قرآن میں ذکر کہا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ محض ایک داحمہ ہے۔ قلب اور نفس تو در کنار کسی مشین کے کھٹ کھٹ کی آواز میں آواز ملا کر اگر آپ ”حق حق“ کہنے لگیں تو کچھ دیر کی مشق کے بعد آپ کو ایسا محسوس ہوگا گویا مشین سے کھٹ کھٹ کی نہیں حق حق کی آواز آ رہی ہے۔ مگر شدید ترین غلط فہمی ہوگی کہ اس قسم کے واہمہ کو ذکر سمجھ لیا جائے۔ ذکر تو ایک اعلیٰ ترین نفسیاتی کیفیت ہے جو آدمی کے شعور کا (نہ کہ عادت کا) حصہ بن کر اس کے پورے وجود میں شامل ہو جاتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح جیسے کسی بچھڑے ہوئے محبوب کی یاد کسی کی ہستی میں سما جائے اور اس کو دائمی طور پر بے چین کر دے۔ دین میں اس اضافہ کا لازمی نتیجہ ایک اور شدید تر بدعت کا وجود میں آنا تھا اور وہ ہے ”مرشد کامل کا عقیدہ۔ جب اللہ سے تعلق قائم کرنے کے طریقے صرف وہ نہ رہے جو قرآن وسنت میں درج ہیں، بلکہ ایسے طریقے، نسبت زیادہ زود اثر، دریافت ہوگئے جو کچھ خاص لوگوں ہی کو معلوم تھے (مثلاً کہا جاتا ہے کہ ”شغل بساط“ بلا واسطہ طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے خواجہ معین الدین چشتی کو ملا تھا جس کے ذریعہ انھیں معراج باطنی حاصل ہوئی) تو دین نے بالکل فطری طور پر علم سفینہ کی بجائے علم سینہ کی حیثیت اختیار کرلی۔ اب ایسے لوگوں سے نسبت حاصل کرنا ضروری ہوگیا جو پر اسرار طور پر روحانی علوم کے مالک تھے اور اپنے مریدوں کو اس کی نسبت خاص منتقل کرسکتے تھے۔ اسی کے ساتھ خود شیوخ کو بھی یہ ضرورت تھی کہ وہ اپنے اندر ایسی تسخیری قوت پیدا کریں جس کے ذریعہ وہ عالم خیال میں اپنے قلب سے مرید کے قلب پر ضرب لگا سکیں اور اس کے دل کو انوار و برکات سے بھر دیں۔ یہ قوت محض نماز روزہ کے ذریعہ نہیں آسکتی تھی۔ یہ تقاضا انھیں زیادہ سے زیادہ عملیات کی طرف لے گیا۔ اب ایسے بزرگ پیدا ہونے لگے جو اس قسم کا کرشمہ دکھا سکتے تھے کہ ایک نظر سے آدمی کو تڑ پا دیں اور ایک توجہ سے قلوب کو بدل ڈالیں۔ اس طرح عیسائی رہبانوں اور ہندو جوگیوں کا فن تسخیر اسلامی لباس اختیار کر کے دین محمدی میں داخل ہوگیا۔
یہاں پہنچ کر کہنوت (پروڈم) پوری طرح اسلام میں داخل ہوگیا۔ حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میری امت میں کہنوت کا کوئی وجود نہیں۔ قرآن میں اس کو خدا کے سوا اس کے بندوں کو رب بنانا قرار دیا گیا تھا۔ شیوخ تصوف کے بارے میں نہایت مبالغہ آمیز تصورات پیش کئے جانے لگے۔ مثلاً الشیخ فی قومہ کالنبی فی امتہ (شیخ اپنی قوم میں ایسا ہی ہے جیسے نبی اپنی امت میں) اور من اراد ان یجلس مع اللہ فلیجلس مع اهل التصوف (جو اللہ کے پاس بیٹھنا چاہتا ہے وہ صوفیاء کے پاس بیٹھے) شیوخ کے شعبدوں اور کرامات کی داستانیں اتنی کثرت سے پھیلائی گئیں کہ وہ زبان وادب کا جزو بن گئیں۔ بالکل بے اصل قسم کی موضوع کہانیوں کو لوگ اس طرح دہرانے اور یقین کرنے لگے گویا یہ بالکل واقعہ ہیں۔ بزرگوں کی مجالس و مواعظ کا بڑا حصہ اسی قسم کی محیر العقول داستانوں پر مشتمل رہنے لگا۔ حتی کہ وہ یہ بھی بھول گئے کہ اس قسم کی کہانیاں بیان کر کے، غیر شعوری طور پر، لوگوں کو یہ تاثر دے رہے ہیں کہ ہمارے بزرگ صحابہ کرام سے بھی زیادہ بلند مرتبہ لوگ تھے۔ کیونکہ صحابہ میں سے کسی کے بارے میں اس قسم کے چمتکار ثابت نہیں۔ صحابہ کے بعض خارق عادت واقعات جو
‹ Previous page Next page › Contents of June 1978 All issues