وصفی زبان
الرسالہ، جون ۱۹۷۸، صفحہ ۲۵
صحیح روایات میں آتے ہیں۔ وہ ہرگز کرامت کے واقعات نہیں ہیں۔ ان کی حیثیت اہل ایمان کا اور اللہ تعالیٰ کی نصرت کی ہے۔ کرامت، بطور ایک شخصی صفت کے، قطعا ایک غیر اسلامی تصور ہے۔ اسلام میں جو چیز ثابت ہے وہ صرف دعا اور اس کی مقبولیت کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی نصرت ہے۔ یہ نصرت بلاشبہ صحابہ کرام کو حاصل ہوئی اور آج بھی مسلمانوں کو حاصل ہو سکتی ہے بشرطیکہ وہ صحابہ والے کاموں کو لے کر اٹھیں۔ صحابہ کی کرامتوں اور موجودہ زمانہ کے بزرگوں کی کرامتوں کا فرق اسی سے واضح ہے کہ صحابہ کی کرامتوں نے عرب و عجم سے باطل کا استیصال کر دیا تھا جب کہ ہمارے بزرگوں کا حال یہ ہے کہ کرامات کی مفروضہ دنیا میں تو جن و انس، نباتات و حیوانات سب کو وہ سفر کئے ہوئے نظر آتے ہیں۔ مگر حقیقت کی دنیا میں ان کی بے بسی کا یہ حال ہے کہ ان کے چاروں طرف باطل طاقتیں، اسلام اور ملت اسلام کو روند رہی ہیں اور وہ ان کے دفعیہ کے لئے کچھ نہیں کر سکتے۔ بزرگ پرستی (دوسرے لفظوں میں بزرگی کی گدی وجود میں آنے کا فتنہ نہیں رکا۔ کرامات اور شعبدہ دل کی فرضی داستانیں جو تمام مجالس تصوف کا سب سے نمایاں جزو ہوتی ہیں، انھوں نے لوگوں کے ذہن کو اس قدر توہماتی بنا دیا کہ اب وہ اپنے بزرگوں کو عام انسانوں سے الگ ایک مستقل طبقہ فرض کرنے کے جیسی طرح انبیاء و ملائکہ عام انسانوں سے الگ ایک طبقہ ہوتے ہیں۔ ان کو خدا کا مختار و مصطفی فرض کر لیا گیا اور ان کی طرف ایسے ایسے فضائل منسوب کرنے لگے جو مضحکہ خیز حد تک بے معنی تھے۔ اسی میں سے " اولیاء اللہ" کا مروجہ تصور ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اولیاء اللہ کی دو قسمیں ہیں۔ ایک اہل ارشاد، دوسرے اہل تکوین۔ اول الذکر خدا کے وہ چنے ہوئے لوگ ہیں جن کے سپرد مخلوق کی ہدایت، قلوب کی اصلاح و تربیت اور اللہ کا قرب حاصل کرنے کے طریقوں کی تعلیم ہوتی ہے۔ ان اولیاء میں جو اپنے زمانہ میں سب سے افضل ہو وہ قطب الارشاد کہلاتا ہے۔ ثانی الذکر سے مراد وہ اولیاء اللہ ہیں جن کے سپرد مخلوق کی معاش کی اصلاح، دنیا کا انتظام اور مصائب کا دفع کرنا ہوتا ہے۔ یہ خدا کے اذن کے تحت اپنی باطنی قوت سے ان امور کی درستی کرتے رہتے ہیں۔ ان میں جو سب سے اعلیٰ اور دوسروں کے اوپر حاکم ہوتا ہے، اس کو قطب تکوین کہتے ہیں۔ گویا اہل ارشاد، انبیار کے مماثل ہیں اور اہل تکوین، فرشتوں کے مماثل جن کو مدبرات الامر کہا گیا ہے۔ حیرت انگیز بات ہے کہ اتنا بڑا عقیدہ بے شمار لوگوں نے نہایت اخلاص کے ساتھ قبول کر لیا، حالانکہ قرآن و حدیث میں اس کے لئے قطعا کوئی سند موجود نہ تھی۔
تصوف کے ابتدائی موحدین خواہ کتنے ہی نیک نیت ہوں، اس میں کوئی شک نہیں کہ تصوف اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ٹھیک وہی چیز تھی جس کو قرآن میں ابتدا رہ اھدین - ۲۷) کہا گیا ہے۔ کچھ بزرگوں نے سادہ طور پر یہ سوچا کہ دین کی اصل حقیقت (تعلق باللہ) کو لوگوں کے اندر پیدا کرنے کے لئے کچھ ایسے اضافی طریقے وضع کو ہی جن کو اسلام کی مخصوص عبادتوں کے ساتھ بطور معاون تدبیر کے استعمال کیا جا سکتا ہو۔ مگر وہ بھول گئے کہ ایسا کرکے وہ خدا پرستی کے بجائے انسان پرستی کو اسلام میں داخل کر رہے ہیں۔ جب اللہ سے تعلق پیدا کرنے اور اس سے قرب ڈھونڈنے کا علم ایک ایسا علم بن جائے جس کو صرف قرآن و سنت سے معلوم نہ کیا جا سکتا ہو تو لازما ایسا ہو گا کہ وہ
‹ Previous page Next page › Contents of June 1978 All issues