Al-Risala · June 1978 · page 26

وصفی زبان

الرسالہ، جون ۱۹۷۸، صفحہ ۲۶

لوگ مرشد اور مرجع قرار پاجائیں جن کے متعلق یہ سمجھ لیا جائے کہ وہ "نفوس مزکاۃ‘‘ ہیں اور سینہ بہ سینہ اس پر اسرار علم کے وارث بنتے چلے آرہے ہیں۔ مزید یہ کہ اس تدبیر کو اختیار کرکے ہمارے یہ بزرگ خدا کی "ممنوعہ چراگاہ" میں داخل ہوگئے کیونکہ عبادتی امور میں کسی بھی قسم کا اجتہادی اضافہ مطلق طور پر ناجائز ہے۔ اسلام کی بعد کی تاریخ میں انحراف کی جو صورتیں پیدا ہوئیں، ان میں دو چیزیں نہایت عجیب تھیں۔ ایک معاملات کے باب میں اجتہاد کا دروازہ بند کرنا۔ دوسرے، عبادات کے باب میں اجتہاد کا دروازہ کھولنا۔ حالاں کہ شریعت کے حقیقی منشا کے اعتبار سے معاملہ اس کے برعکس تھا۔ معاملات کے بارے میں صریح طور پر اجازت دی گئی تھی کہ نئے پیش آمدہ امور پر اسلام کی اصولی تعلیمات کی روشنی میں غور کرکے حکم لگایا جائے۔ ابتدائی دور کے فقہا ء نے اسی پر عمل کرتے ہوئے اجتہادات کئے تھے۔ مگر بعد کے لوگوں کے لئے کہہ دیا گیا کہ :

ان الاوائل لم يتركوا الا و آخر شيئا پچھلے لوگوں کے لئے کچھ نہیں چھوڑا حالاں کہ یہ دین میں حیرت انگیز حد تک ایک اندوہ ناک جسارت ہے۔ جب خدا کی کتاب اور رسول کی سنت کے باوجود دوسری صدی، ہجری کے ائمہ فقہ کے لئے یہ گنجائش تھی کہ وہ اجتہاد کریں تو کیا ان ائمہ کے فتاوی خدا کی کتاب اور رسول کی سنت سے بھی زیادہ جامعیت کے حامل ہیں کہ ان کے بعد، خواہ حالات کتنے ہی بدل جائیں ، کسی کو اجتہاد کی ضرورت نہ ہوگی۔

وہ لوگ جنہوں نے براہ راست پیغمبر کی صحبت سے اسلام سیکھا تھا، ان کے لئے یہ بات انتہائی طور پر اجنبی تھی کہ دین میں "بزرگی" کا ایک مستقل ادارہ وجود میں آجائے۔ لوگ دینی پیشوائی کی گدیوں پر اسی طرح بیٹھنا شروع کردیں جس طرح بادشاہی نظام میں ایک کے بعد دوسرا تخت نشین ہوتا ہے۔ صحابہ کرام، رسول اللہ کے بعد، خدا کی کتاب اور رسول کی سنت کے سوا کسی چیز کو نہیں جانتے تھے جس سے رہنمائی حاصل کی جائے۔ وہ عمر فاروق پر بھی اسی طرح تنقید کرتے تھے جیسے کسی عام انسان کے اوپر۔ ان کی بات کو جب وہ مانتے تھے تو شخصی عقیدت مندی کے تحت نہیں بلکہ اس وقت جب کہ انہوں نے اپنی بات کی صداقت ثابت کردی ہو۔ قاضی شریح کے سامنے جب خلیفہ چہارم حضرت علی بن ابی طالب نے نصرانی کے خلاف زرّہ کا مقدمہ پیش کیا تو حضرت علی کی طرف سے گواہی میں ان کے غلام قنبر اور ان کے لڑکے حسن تھے۔ قاضی شریح نے حضرت حسن کی ساری بزرگی کے باوجود ان کی گواہی نہیں مانی : فقال اترد شهادة الحسن وقال رسول الله صلى الله حضرت علی نے کہا کیا تم حسن کی گواہی کو رد کرتے ہو حالانکہ عليه وسلم الحسن والحسين سيد اشباب اهل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حسن اور حسین الجنة، قال لا ولكن حفظت عنك انه لا تجوز جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔ قاضی شریح نے کہا نہیں۔ کیونکہ میں نے آپ ہی سے سن کر یاد کیا ہے کہ لڑکے کنز العمال ، جلد چہارم ، صفحہ ۷ کی گواہی باپ کی موافقت میں جائز نہیں۔

رجال کے سلسلہ میں ان کا تصور یہ تھا کہ اگر کوئی شخص کسی کی اقتدا کرنا چاہتا ہے تو اس کو مردوں کی اقتدا کرنا چاہئے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1978 All issues

Printed page