Al-Risala · June 1978 · page 27

وصفی زبان

الرسالہ، جون ۱۹۷۸، صفحہ ۲۷

نہ یہ کہ کسی زندہ شخص کو اپنا ”شیخ“ بنا لیا جائے۔ کیونکہ کوئی بھی شخص اس دنیا میں معصوم نہیں۔ نبی کے سوا ہر زند ہ شخص کے لئے یہ امکان ہے کہ وہ کسی بھی وقت فتنے میں پڑ جائے (من کان مستنا فلیستن بمن قدمات فان الحی لا تو من علیہ الفتنة ، ابن مسعود) حضرت علی نے فرمایا :

ایاکم والاستنان بالرجال ، فان الرجل یعیل بعمل رجال کی سنت پکڑنے سے بچو ۔ اس لئے کہ آدمی جنت اهل الجنة ثم ينقلب لعلہ اللہ فیعمل بعمل والوں کا عمل کرتا ہے ، پھر اللہ کے علم کے مطابق پلٹ اهل النار فيموت وهو من اهل النار، وان الرجل جاتا ہے اور آگ والوں کا عمل کرنے لگتا ہے۔ پھر اسی ليعمل بعمل اهل النار فينقلب لعلہ اللہ فیعمل حال میں مرجاتا ہے اور وہ آگ والا ہوتا ہے ۔ اور بعمل اهل الجنة فيموت وهو من اهل الجنة ، بے شک آدمی آگ والوں کا عمل کرتا ہے ، پھر اللہ کے فان كنتم لا بد فاعلين قبلا اموات لا يلاحياء علم کے مطابق پلٹ جاتا ہے اور جنت والوں کا عمل ابن عبد البر ، جامع بیان العلم ، جلد ۲، صفحہ ۱۱۳ کرنے لگتا ہے ، پھر اسی حال میں مرجاتا ہے اور وہ جنت والوں میں سے ہوتا ہے۔ پس اگر تمہیں لوگوں کی اقتوہی کرنی ہے تو مرے ہوئے لوگوں کی اقتدا کرو نہ کہ زندہ لوگوں کی۔

” بزرگی “ کا ادارہ جو بعد کے دور میں ملت اسلامیہ کے اندر قائم ہوا ، اس کی کوئی اصل کتاب وسنت میں موجود نہ تھی ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی کوئی چیز اسلام کے ڈھانچے میں بالکل اجنبی ہے۔ یہ تمام تر دوسری قوموں کے طریقے (پرینیسٹ ہڈ اور گرو ڈم ) کی نقل تھی جس کو اسلامی اصطلاحوں کا لباس اڑھا کر اسلام میں داخل کر لیا گیا۔ اس قسم کی کوئی چیز اسی وقت تک اسلام میں چل سکتی ہے جب تک کتاب وسنت کے بجائے بزرگوں کے ملفوظات دا مکتوبات اور ان کی شخصیت کے بارے میں افسانوی داستانیں دین کا ماخذ بنی ہوئی ہوں۔ جس لمحہ کتاب وسنت دین کا ماخذ بنیں گے ، یہ سارے معتقدات اس طرح ختم ہو جائیں گے جیسے ان کا کوئی وجود ہی نہ تھا ۔ ۳- اس سلسلے کی تیسری خرابی وہ ہے جو علم کلام کے ذریعہ وجود میں آئی ۔ علم کلام اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے اسلامی دعوت و تعلیم کی ایک معاون شاخ ہے ۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ مخاطب جس زبان سے مانوس ہے اور جن اصطلاحوں میں بات کو سمجھنا چاہتا ہے ، اسی زبان اور اسی اصطلاح میں اس کے سامنے دینی پیغام کو پہنچایا جائے ، اس کی اسی اہمیت کی بنا پر امام غزالی (۱۱۱۱۔ ۱۰۵۹) نے علماء کے تعلیمی نصاب میں خالص دینی موضوعات کے ساتھ علوم آلہ کے طور پر معقولات کا جوڑ لگایا تھا تاکہ اسلامی درس گاہوں سے ایسے لوگ تیار ہوں جو ایک طرف لغوی، فقہی کا بخوبی علم رکھتے ہوں ۔ دوسری طرف وقت کے اسلوب میں اسلام کی نمائندگی کر سکیں ۔

مگر علم کلام ، عین اپنی نوعیت کے اعتبار سے ، ایک زمانی علم ہے۔ وہ اسلام کی دائمی حقیقت کو زمانی اصطلاحوں میں بیان کرتا ہے ۔ اس لئے اس کی اہمیت اس وقت خود بخود ختم ہو جاتی ہے جب کہ وہ زمانہ ختم ہو جائے جس کے اندر وہ

‹ Previous page Next page › Contents of June 1978 All issues

Printed page