وصفی زبان
الرسالہ، جون ۱۹۷۸، صفحہ ۲۸
وجود میں آیا تھا۔ مگر یہاں بھی اسی انسانی کمزوری نے کام کیا جس کے اثرات ہمیں دوسری چیزوں میں نظر آتے ہیں۔ وہ یہ کہ کوئی چیز جب ایک بار وجود میں آجائے اور اس کے ساتھ کچھ قابل احترام شخصیتوں کے نام وابستہ ہو جائیں تو ڈھیربے ڈھیرے وہ مقدس بننا شروع ہو جاتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ وقت آتا ہے جب کہ اس میں ترمیم و اصلاح کی بات سوچنا بھی لوگوں کو ایسا لگتا ہے جیسے وہ گناہ ہو۔
یہی حال اسلام کے اس کلامی لٹریچر کا ہوا جو عباسی دور میں پیدا ہوا تھا۔ یہ علم کلام اس وقت اتنا موثر ثابت ہوا کہ جو علوم اسلام کے لئے چیلنج بن کر ظاہر ہوئے تھے وہ خود اسلام کے خادم بن گئے۔ مگر زمانہ کی تبدیلی نے اب ان کی اہمیت قطعی طور پر ختم کر دی ہے۔ آج ”معقولات“ کے نام سے جو چیز ہمارے دارالعلوموں میں پڑھائی جاتی ہے اس کو نامعقولات کہنا زیادہ صحیح ہوگا۔ اس کی بنیاد ایسے عقلی قیاسات پر قائم ہے جو آج مشاہدہ اور تجربہ کے ذریعہ غلط ثابت ہو چکے ہیں۔ جو چیز محض ایک وقتی تدبیر کی حیثیت رکھتی تھی، اس کو بعد کے لوگوں نے دینی نصاب کا مستقل جزو بنا لیا۔ اس طرح اگرچہ اسلام کا متن نہیں مگر اسلام کا نظام تعلیم ٹھیک اسی غلطی کا شکار ہو گیا جس کا شکار عیسائیوں نے اپنی کتاب مقدس کو بنایا تھا۔
یہی وہ صورت حال ہے جس نے اسلام کے اس امکان کو بروئے کار آنے نہیں دیا کہ وہ موجودہ زمانہ میں ایک برتر فکری قوت کی حیثیت سے ظاہر ہو سکے۔ ہمارے دینی مدارس نہایت اخلاص کے ساتھ ایسے انسان تیار کرتے ہیں جو صرف پانچ سو برس پہلے کی دنیا میں کام کر سکتے تھے۔ ظاہر ہے کہ ایسے لوگ موجودہ بدلے ہوئے زمانہ میں اسلام کا فکری اظہار نہیں کر سکتے۔ وہ اپنے ذہن ومزاج کی وجہ سے صرف یہی کر سکتے ہیں کہ اسلام کی کمتر نمائندگی کرکے یہ ثابت کریں کہ اسلام دور سائنس سے قبل کی چیز ہے وہ آج کے انسان کے لئے نہیں۔ موجودہ زمانہ میں اٹھنے والی بعض تحریکوں نے اس خلا کو پر کرنے کی کوشش کی۔ مثال کے طور پر وہ تحریکیں جنھوں نے اسلام کی تعلیمات کو سیاسی اصطلاحوں میں بیان کیا۔ ان تحریکوں سے وقتی فائدے بھی ہوئے۔ مگر قیمتی سے ان تحریکوں میں آغاز ہی سے ایک خرابی شامل ہو گئی۔ یہ تحریکیں باعتبار حقیقت متکلمانہ تحریکیں تھیں جو انیسویں صدی کے مغربی افکار کے ہنگامہ میں اس لئے اٹھیں کہ اسلام کو لوگوں کے لئے قابل قبول بنائیں۔ مگر ان کے پرجوش داعیوں نے صرف اس پر اکتفا نہیں کیا کہ وہ اسلام کو سیاسی زبان میں بیان کرتے بلکہ انھوں نے تفسیر اور سیرت بھی اسی نہج پر مرتب کر ڈالی۔ حتی کہ یہ اعلان بھی کر دیا کہ مختلف زمانوں میں جو انبیاء آئے وہ اسی لئے آئے تھے کہ دنیا میں خدا کی حکومت قائم کریں۔ اس طرح انھوں نے اپنے کلامی لٹریچر کو دین کی تشریح کا عنوان دے دیا۔ یہ نہ صرف دین میں ایک جسارت تھی بلکہ اس کے ذریعہ سے انھوں نے اپنے پیرووں کو دوبارہ اسی جمود میں مبتلا کر دیا جس میں ہمارے قدیم دینی ادارے مبتلا چلے آ رہے تھے۔ انیسویں صدی کا سیاسی انداز فکر، جس میں یہ لٹریچر پیدا ہوا تھا، دوسری جنگ عظیم کے ساتھ ختم ہو گیا۔ اب ضرورت تھی کہ نئے ذہنی تقاضوں کی روشنی میں دوسرا کلامی لٹریچر تیار کیا جائے۔ مگر یہ گروہ آج بھی بے سود طور پر اسی سیاسی لٹریچر کی تلاوت میں مصروف ہے، جس طرح عربی مدارس یونانی معقولات کے درس د
‹ Previous page Next page › Contents of June 1978 All issues