Al-Risala · December 1993 · page 5

انسان جاگ اٹھا

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۵

انسان جاگ اٹھا

۲۴ جنوری ۱۹۹۳ کو میں جبل پور میں تھا۔ یہاں ناگپور کے جناب، عبد السلام اکبانی (پیدائش ۱۹۱۴) سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے اپنا ایک ذاتی واقعہ بیان کیا جس میں بہت بڑا سبق ہے۔ عبد السلام اکبانی صاحب (41241-0712 .Tel) نے ۱۹۹۰ میں ناگپور کے ایک ہندو پر بھاکر ہزارے سے ۶ لاکھ روپے میں ایک زمین کی خریداری کا معاملہ کیا۔ طے ہوا کہ عبد السلام صاحب بطور ایڈوانس ۲ لاکھ روپے مالک کو دے دیں گے۔ چھ ماہ بعد رجسٹری ہوگی اور اسی وقت بقیہ رقم ادا کر دی جائے گی۔ دو مہینے کے بعد مالک زمین نے کچھ وجہ بتا کر دو لاکھ روپے اور وصول کر لیا۔ اب مالک زمین کے ہاتھ میں چار لاکھ رو پے آگیا۔ اس درمیان میں زمین کی قیمت بڑھ گئی۔ اس کے بعد مالک زمین کا ارادہ بدل گیا۔ چھ مہینے کے بعد عبد السلام صاحب نے مالک زمین سے کہا کہ اب مقرر وقت پورا ہوگیا ہے اب زمین کی رجسٹری کرا دو۔ مگر وہ حیلے والی باتیں کرنے لگا۔ اس نے کہا کہ ابھی ہمارا ارادہ رجسٹری کرنے کا نہیں ہے۔ اس طرح وہ برابر رجسٹری کے معاملہ کو ٹالتا رہا۔ اس کے ذہن میں یہ تھا کہ عبد السلام صاحب کا چار لاکھ روپے تو میرے پاس موجود ہی ہے۔ زیادہ سے زیادہ وہ عدالت میں میرے خلاف کیس کریں گے۔ میں مقدمات کا ماہر ہوں۔ ان کو عدالت میں دوڑاتار ہوں گا۔ آخر کار وہ مجبور ہو کر میری شرطوں پر صلح کر لیں گے۔ ایک روز عبد السلام صاحب مسٹر ہزارے کے یہاں پہنچے۔ اس وقت وہاں ان کے سر مسٹر ساور کر بھی موجود تھے۔ ان کا آرائیں اس سے گہرا تعلق تھا۔ مسٹر ساور کرنے کچھ دل خراش باتیں کہیں۔ آخر میں یہ کہا کہ آپ کیا کر سکتے ہو۔ آپ یہی کرو گے کہ ہمارے خلاف کورٹ میں جاؤ گے ۔ اور اگر آپ نے ایسا کیا تو ہم آپ کی چپلیں گھسوا دیں گے۔ عبد السلام صاحب نے کہا کہ آپ میری چپلیں جب گھسواؤ گے جب کہ میں کورٹ میں جاؤں۔ مگر میں کورٹ میں جاؤں گا ہی نہیں۔ پھر آپ کیسے میری چپلیں گھسواؤ گے مسٹر ساور کرنے کہا کہ پھر آپ کیا کریں گے۔ عبد السلام صاحب نے کہا کہ میں خود آپ کو ثالث بناؤں گا۔ ایک

‹ Previous page Next page › Contents of December 1993 All issues

Printed page