Al-Risala · December 1993 · page 20

بمبئی کا سفر

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۲۰

انقلاب کا آغاز کرنے والے ہیں جب کہ انسان کے لئے یہ ممکن ہو جائے گا کہ وہ " ایک رات " میں دور کی کسی منزل کا سفر کرے اور پھر اسی رات کو دوبارہ اپنے مقام پر واپس آ جائے ۔ بمبئی میں میرا قیام ریجنسی ہوٹل کے کمرہ نمبر ۳۰۵ میں تھا ۔ یہ بمبئی کے ایک پر سکون علاقہ (نیپین سی روڈ پر واقع ہے ۔ اس لحاظ سے وہ میری پسند کے مطابق تھا ۔

بمبئی ہندوستان کا سب سے بڑا شہر ہے ، بمبئی کے ساتھ بے شمار یادیں اور تاریخیں وابستہ ہیں ۔ جون ۱۸۸۸ میں موہن داس کرم چند گاندھی یہیں کے ساحل سے مزید تعلیم کے لئے انگلینڈ روانہ ہوئے تھے ۔ اس وقت ان کی عمر ۱۸ سال تھی ۔ انھوں نے اپنی بیوی کاستور یچ کر پانی کے جہاز کا ٹکٹ حاصل کیا تھا ۔ بنیا کمیونٹی کو معلوم ہوا تو اس نے موہن داس کو ذات باہر (outcaste) قرار دے دیا ۔ ہوئی فشر کے الفاظ میں ، ان کا مذہب سمندری سفر طے کر کے باہر جانے کی اجازت نہیں دیتا تھا ۔ کیوں کہ وہاں ہندو دھرم پر عمل نہیں کیا جا سکتا تھا ۔ Their religion forbade voyages abroad because Hinduism could not be practiced there. (p.23)

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اب سے سو سال پہلے تک انڈیا کا سماج کتنا بند سماج تھا ۔ اس بند سماج کو ۵۰ فیصد مسلم تہذیب نے کھولا ، اور بقیہ ۵۰ فیصد مغربی تہذیب نے ۔ بمبئی فساد کے زمانہ میں پاکستانی اخبارات میں صفحہ اول پر نہایت اشتعال انگیز خبریں چھپ رہی تھیں ۔ روزنامہ وفاق جو پاکستان کا اسلامی اخبار سمجھا جاتا ہے ، اس کے شمارہ ۱۴ جنوری ۱۹۹۳ کے صفحہ اول کی ایک خبر کا عنوان یہ تھا :

بمبئی فسادات کا جہنم بن گیا ۔ شہر پر جنونی ہندوؤں اور غنڈوں کا راج موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی سب سے بڑی مصیبت اس قسم کے اخبارات ہیں ۔ یہ حقیقت ہے کہ مسلمانوں کے اخبارات زرد صحافت کی بدترین مثال ہیں ۔ ان اخبارات نے کوئی بھی تعمیری کردار ادا نہیں کیا ۔ انھوں نے پچھلے سو سال میں صرف ایک کام کیا ہے ۔ مسلمانوں کے مزاج کو بگاڑنا ۔ انھیں آخری حد تک دوسری قوموں سے متنفر کر دینا ۔ اسی منفی مزاج کا یہ نتیجہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان چھوٹی چھوٹی باتوں پر مشتعل ہو جاتے ہیں ۔ جب کہ اس دنیا

‹ Previous page Next page › Contents of December 1993 All issues

Printed page