Madhu Mehta is the champion of unpopular causes.
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۲۱
میں ترقی کا راز برداشت ہے نہ کہ اشتعال۔
۳۱ جنوری کی شام کو مسٹر مدھو مہتا کے مکان پر ان کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا۔ اس دوران انھوں نے کئی دلچسپ باتیں سنائیں۔ سردار پٹیل کے سکریٹری نے ایک بار انھیں بتایا کہ ۱۹۴۷ میں جب پاکستان سے ریفیوجی بڑی تعداد میں دہلی آئے تو وہ چاندنی چوک کے علاقہ میں فٹ پاتھ پر بیٹھ گئے اور وہاں سامان رکھ کر بیچنے لگے۔ اس کے بعد چاندنی چوک کے دکانداروں کا ایک وفد سردار پٹیل سے ملا جو اس وقت ہوم منسٹر تھے۔ انھوں نے شکایت کی کہ ان شررناریوں نے جب سے اگر فٹ پاتھ پر کاروبار شروع کیا ہے، ہمارا بزنس ختم ہوگیا ہے۔ اس لئے ان شررناریوں کو یہاں سے ہٹائیے۔
سردار پٹیل ان تاجروں کی بات چپ چاپ سنتے رہے۔ جب انھوں نے اپنی بات ختم کی تو سردار پٹیل نے پرسکون لہجہ میں کہا: اس کا حل بہت آسان ہے۔ آپ لوگ دکان چھوڑ کر فٹ پاتھ پر آجائیے اور فٹ پاتھ والوں کو دکان میں بٹھادیجئے۔ اس کے بعد تمام دکاندار خاموشی کے ساتھ واپس چلے گئے ۔ ___ سردار پٹیل کا یہ جواب بتاتا ہے کہ ایڈمنسٹریشن چلانے کے لئے کس قسم کی صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
مسٹر مدھو مہتا نے بتایا کہ ۱۹۴۷ میں جب پنجاب اور بنگال میں فرقہ وارانہ فساد ہورہا تھا۔ پولیس اور فوج اس کو کنٹرول کرنے سے عاجز ہو گئی تھی۔ اس وقت گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن برلا ہاؤس، دہلی گئے اور مہاتما گاندھی سے ملے۔ انھوں نے گاندھی جی سے کہا کہ ملک میں آگ لگی ہوئی ہے، اور میری فورس اس کو روکنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ میرا خیال ہے کہ آپ ہی اس کو روک سکتے ہیں۔ آپ میری واحد نفری فوج ہیں: You are my one-man army. (Allwyn Fernandes) بمبئی میں ایک انگریزی جرنلسٹ مسٹر الوین فرنینڈیز سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ بمبئی کے لوگ مسٹر مدھو مہتا کے بارہ میں کہتے ہیں کہ وہ غیر مقبول کاموں کے چیمپئن ہیں:
Madhu Mehta is the champion of unpopular causes.
‹ Previous page Next page › Contents of December 1993 All issues