Madhu Mehta is the champion of unpopular causes.
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۲۲
مسٹر مدھو مہتا کی خاص صفت یہ ہے کہ وہ ایک با اصول آدمی ہیں۔ وہ جو کچھ کرتے ہیں اصول کی خاطر کرتے ہیں نہ کہ مفاد کی خاطر۔ لوگ عام طور پر ان اشوز کو لے کر اٹھتے ہیں جو عوام پسند ہوں، جن کے ذریعہ فوراً مقبولیت حاصل ہوتی ہو۔ مگر مدھو مہتا صرف یہ دیکھتے ہیں کہ کیا صحیح ہے۔ اس دنیا میں مفاد کو نظر انداز کرنے والا آدمی مقبولیت حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ ہے۔ مدھومہتا ایسے ہی ایک نادر آدمی ہیں، اسی لئے ان کے بارہ میں کہنے والے کہتے ہیں کہ وہ غیر مقبول مقاصد کے چمپین ہیں۔
اخباروں میں یہ بات آچکی ہے کہ عین اس زمانہ میں جب کہ بمبئی میں فرقہ وارانہ فساد ہو رہا تھا، اس کے پڑوسی علاقہ بھیونڈی میں فساد نہیں ہوا۔ اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ "علمی مطالعہ حقیقۃً تقابلی مطالعہ کا دوسرا نام ہے۔ اس معاملہ میں علمی مطالعہ کا طریقہ یہ ہے کہ ہم یہ سوچیں کہ بمبئی میں فساد ہوا تو بھیونڈی میں فساد کیوں نہیں ہوا۔ نارتھ انڈ یا میں فساد ہوتا ہے تو ساؤتھ انڈیا میں فساد کیوں نہیں ہوتا۔ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ امریکہ اسلام کا دشمن نمبر ایک ہے۔ دنیا بھر کے لاکھوں مسلمان اس دشمن ملک میں امن و سکون کے ساتھ کس طرح رہتے ہیں۔ اگر اس طرح تقابلی مطالعہ کیا جائے تو اس سے ہم کو یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ جہاں فساد ہوتا ہے اس کا سبب کیا ہے، اور جہاں مسلمانوں کو امن و سکون کے ساتھ رہنے کا موقع مل رہا ہے وہاں ایسا کس طرح ہوتا ہے۔
میں نے اس پہلو سے بہت غور کیا ہے۔ میں جس نتیجہ پر پہنچا ہوں وہ یہ ہے کہ جہاں مسلمان حقیقت پسندانہ انداز میں رہتے ہیں وہاں فساد نہیں ہوتا ہے اور جہاں جذباتی انداز میں رہتے ہیں وہاں فساد ہو جاتا ہے۔ فسادی عناصر تو ہر جگہ موجود ہیں۔ مگر مسلمانوں کا مثبت ردعمل ایک جگہ بم کو ڈیفیوز کردیتا ہے، اور مسلمانوں کا منفی رد عمل دوسری جگہ بم کو انفجار تک پہنچا دیتا ہے۔ بہار کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے موجودہ انتظامی حالت پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک دلچسپ قصہ بتایا۔ بہار کی ایک سڑک پر کچھ ڈاکوؤں نے ایک مسافر بس کو روکا۔ وہ گن لئے ہوئے بس میں داخل ہوئے اور تمام مسافروں کو حکم دیا کہ جس کے پاس جتنی رقم ہو وہ سب ہمارے حوالے کر دے۔ مسافروں کے لئے کوئی دوسرا راستہ نہ تھا۔ ہر ایک نے اپنی اپنی رقم
‹ Previous page Next page › Contents of December 1993 All issues