Al-Risala · December 1993 · page 28

Madhu Mehta is the champion of unpopular causes.

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۲۸

ایک صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ وہ سوامی ویویکانند کے بہت معتقد تھے۔ انھوں نے سوامی ویویکانند کے عالمی مذہب (universal religion) کے نظریہ کی حمایت کی ۔ انھوں نے ایک کتاب دکھائی ۔ اس میں تھا کہ سوامی ویویکانند نے ۱۸۹۳ میں امریکہ کے ایک لکچر میں کہا تھا کہ نام نہاد ٹالرنس ایک بد دینی کی بات ہے۔ میں ٹالریٹ کرنے کے بجائے قبول کرنے میں یقین رکھتا ہوں۔ ٹالرنس کا مطلب یہ ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ تم غلط ہو اور میں تم کو صرف زندہ رہنے کی اجازت دیتا ہوں۔ کیا یہ سوچنا بد دینی نہیں ہے کہ میں اور تم دونوں ایک دوسرے کو بس زندہ رہنے کا حق دے رہے ہوں ۔ میں سارے ہی مذہبوں کو قبول کرتا ہوں ۔

میں نے کہا کہ یہ ایک خوبصورت تخیل تو ہے مگر وہ کوئی خوبصورت نظریہ نہیں۔ نظریہ وہ ہے جو قابل عمل ہو۔ یہ بات موجودہ دنیا میں قابل عمل نہیں ۔ یہاں عملی طور پر جو چیز ممکن ہے وہ ٹالرنس ہی ہے۔ اس کے ناقابل عمل ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ اس نظریہ کے ماننے والے ایسے مذہب کی تو قدر کرتے ہیں جو انھیں کی طرح یہ کہے کہ تمام مذاہب سچے ہیں۔ مگر جو مذہب یہ کہے کہ سچا مذہب صرف ایک ہی ہو سکتا ہے ، اس کی قدر دانی کرنے کے لئے یہ لوگ کبھی تیار نہیں ہوں گے ۔ حالانکہ اپنے نظریہ کے مطابق انھیں ایسے مذہب کی بھی پوری قدر کرنا چاہئے۔

تعدد حقیقت کے اس ہندو نظریہ کو مغربی ملکوں میں بہت مقبولیت ملی ہے۔ اس کے مقابلہ میں اسلام کے توحید حقیقت کے نظریہ کو وہاں زیادہ مقبولیت حاصل نہ ہو سکی۔ ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے اس کو مغرب کے لوگوں کا تعصب قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ وہ اسلام دشمنی کی بنا پر ایسا کر رہے ہیں ۔

میں نے کہا کہ یہ رائے درست نہیں۔ اصل یہ ہے کہ اہل مغرب کے لئے ہندو ازم کا نظریہ زیادہ مفید مطلب (convenient) ہے ، جب کہ اسلام کا نظریہ انھیں اپنے لئے موافق نظر نہیں آتا ۔

اہل مغرب یہ چاہتے ہیں کہ مذہب ان کے سیاسی اور تمدنی معاملات میں داخل نہ ہو۔ اس مقصد کے لئے انھوں نے کہا کہ مذہب ایک پرائیویٹ انسانی معاملہ ہے۔ ہندو ازم کے نظریہ میں بھی ان کو یہی فائدہ دکھائی دے رہا ہے ۔ جس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے انھوں نے مذہب

‹ Previous page Next page › Contents of December 1993 All issues

Printed page