Madhu Mehta is the champion of unpopular causes.
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۲۹
کو ایک پرائیویٹ معاملہ بتایا تھا وہی مقصد نہیں ہند وازم کے اس نظریہ میں بھی الفاظ بدل کر حاصل ہو رہا ہے۔
ایک صاحب سے گفت گو کے دوران میں نے کہا کہ عربی، اردو، فارسی، انگریزی میں مسلمانوں کے جتنے بھی اخبار یا رسالے نکلتے ہیں، ان سب کو ایک ہی مشترک نام دیا جا سکتا ہے، اور وہ پروٹسٹ ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا ہر صحافت نامہ احتجاج نامہ ہے۔ ان میں اغیار کو مسلمانوں کی تمام مصیبتوں کا ذمہ دار بتا کر ان پر سب وشتم کیا جاتا ہے۔ یہ یقینی طور پر قرآن کی خلاف ورزی ہے۔ قرآن میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ تمہارے اوپر جو بھی مصیبت آتی ہے وہ صرف تمہارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے۔ ایسی حالت میں اپنی مصیبتوں کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہرانا عملی طور پر قرآن کے انکار کے ہم معنی ہے۔ مگر قرآن کا یہ عملی انکار ساری مسلم دنیا میں علی الاعلان کیا جا رہا ہے۔ اور یہ عملی انکار وہ لوگ کر رہے ہیں جو قرآن اور اسلام کے نام ہی پر اپنی ساری مہم چلا رہے ہیں۔
ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے ہندوستانی مسلمانوں کے مسئلہ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ دستور نے ہم کو برابری کا حق دیا ہے اور کوئی بھی شخص ہم کو اپنا دستوری حق لینے سے روک نہیں سکتا۔ انھوں نے پر جوش طور پر کہا :
None can curtail minorities rights bestowed by the constitution. میں نے کہا کہ یہ واقعہ تو خود آپ لوگوں کے بیان کے مطابق، پچھلے چالیس سال سے جاری ہے کہ مسلم اقلیت کو اس کا دستوری حق نہیں مل رہا ہے۔ پھر کیوں نہیں آپ نے اس کو کوروک دیا۔ میں نے کہا کہ کسی گروہ کو اس کا حق دستوری الفاظ کی بنیاد پر نہیں ملتا بلکہ اس کے اپنے استحقاق کی بنا پر ملتا ہے۔ آپ اگر دستور میں لکھا ہوا حق لینا چاہتے ہیں تو اس قسم کی پر جوش تقریر نہ کیجئے۔ بلکہ مسلمانوں کو تعلیم اور دوسرے شعبوں میں آگے بڑھا کر اس قابل بنا دیجیے کہ وہ اپنا حق وصول کرنے کے قابل ہو جائیں۔
ایک صاحب سے میں نے کہا کہ ہندوستانی مسلمانوں کا جو لکھنے اور بولنے والا طبقہ ہے، اس
‹ Previous page Next page › Contents of December 1993 All issues