I am for work.
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۳۰
کی بنیادی کمزوری یہ ہے کہ وہ ہند و مسلم معاملات میں اپنے لئے اپوزیشن سے رہنمائی لیتا ہے۔ اپوزیشن کا سیاسی فائدہ یہ ہے کہ وہ حکمراں پارٹی کو بدنام کرے۔ چنانچہ فرقہ وارانہ فساد یا اور کسی موقع پر اپوزیشن کے افراد فورا یہ کرتے ہیں کہ اس کو لے کر انتظامیہ کی مذمت شروع کرتے ہیں۔ اس پالیسی کا واحد مقصد یہ ہوتا ہے کہ عوام انتظامیہ (یعنی حکمراں پارٹی) سے بدظن ہو جائیں اور اگلے الیکشن میں ان کو ووٹ نہ دیں۔
مسلمانوں کے نااہل لیڈروں نے بھی عین یہی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔ ہر مسئلہ میں ان کو بس کہنے کی ایک ہی بات معلوم ہے، اور وہ یہ کہ انتظامیہ کو ذمہ دار قرار دے کر اس کے خلاف مذمتی بیانات شائع کریں۔
یہ پالیسی ہلاکت خیز حد تک غلط ہے۔ ہم کو اچھی طرح جان لینا چاہئے کہ انڈیا میں جو ہند و مسلم معاملہ ہے اس کا بہت کم تعلق نام نہاد انتظامیہ سے ہے۔ اس کا زیادہ تر تعلق مسلم عوام اور ہندو عوام سے ہے۔ اس معاملہ میں ہمیں یہ کرنا ہے کہ ہندوئوں اور مسلمانوں میں خوشگوار تعلقات پیدا کریں اور لوگوں کو یہ نصیحت کریں کہ وہ اختلافی معاملات میں صبر و ضبط اور حکمت و تدبیر سے کام لیں نہ کہ جوش اور مشتعل مزاجی سے۔ اس کے سوا جو بھی طریقہ اختیار کیا جائے وہ تباہ کن ثابت ہو گا۔ ایک مجلس میں کسی نے کہا کہ ملک میں سب سے بڑا مسئلہ روزگار کا مسئلہ ہے۔ مسٹر دھومھنا نے کہا کہ یہ بات صرف جزئی طور پر صحیح ہے۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہمارے دیش میں لوگوں کے اندر کام کرنے کا جذبہ نہیں۔ وہ چاہتے کہ بس انھیں ایک ملازمت مل جائے اور پھر کام نہ کرکے بھی تنخواہ لیتے رہیں ۔
انھوں نے کہا کہ میں امریکہ گیا اور وہاں مختلف لوگوں سے ملا۔ میں نے پایا کہ ایک امریکی نوجوان جس کے پاس کوئی جاب نہ ہو وہ اپنے بارہ میں بتاتے ہوئے یہ کہے گا کہ میں کام کی تلاش میں ہوں:
I am for work.
اور انڈیا میں معاملہ اس کے الٹا ہے۔ انڈیا کا ایک نوجوان بے روزگار ہے تو وہ اپنی حالت کو بتاتے ہوئے یہ کہتا ہے کہ میں ایک جاب کی تلاش میں ہوں:
۳۰ الرسائل دسمبر ۱۹۹۳
‹ Previous page Next page › Contents of December 1993 All issues