I am looking for a job.
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۳۱
I am looking for a job.
ریکی کا نوجوان "کام" کی تلاش میں ہوتا ہے، اور انڈیا کا نوجوان "ملازمت" کی تلاش میں۔ دونوں دیشوں کے مزاج میں جو فرق ہے وہ اس مثال سے ظاہر ہوتا ہے۔
بمبئی میں مسلسل ملاقاتوں اور میٹنگوں کی وجہ سے اخبار پڑھنے کا زیادہ موقع نہیں ملتا تھا، تاہم کم از کم ایک اخبار میں ضرور پڑھ لیتا تھا۔ جب کہ دہلی میں روزانہ میں چار اخبار دیکھتا ہوں۔ ٹائمس آف انڈیا (۳ فروری ۱۹۹۳ء) میں علی گڑھ کی ایک رپورٹ تھی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ مسلم یونیورسٹی کے چند لڑکوں نے بعض نام نہاد لیڈروں کی کال پر ۲۶ جنوری کو کالا جھنڈا لگایا۔ مگر وہاں کے مسلمانوں نے اس کی سخت مذمت کی۔ رپورٹر نے لکھا تھا کہ ۲۶ جنوری کو میں علی گڑھ شہر میں گیا۔ لیکن وہاں کسی ایک گھر کے اوپر بھی کالا جھنڈا نظر نہیں آیا:
This correspondent could not spot a single black flag on any house. (p.17) رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اب علی گڑھ کے مسلم نوجوان یہ کہہ رہے ہیں کہ مسلمانوں کے شدت پسند کوگ (hardliners) مسلمانوں کو رہنمائی دینے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ مسلمانوں کو حقیقت پسند اور روشن خیال قیادت (realistic and enlightened leadership) کی ضرورت ہے۔ یہ صرف علی گڑھ کی بات نہیں۔ یہ آج ملک کے تمام مسلمانوں کی آواز ہے۔ اب وہ حالات پوری طرح تیار ہو چکے ہیں جب کہ مسلمانوں کے درمیان نئی صالح قیادت ابھرے اور مسلمانوں کی طرف سے اس کا استقبال کیا جائے۔
۳ فروری کی دو پہر کو میں بھنڈی بازار سے گزر رہا تھا۔ ۳ بجے ہاسپٹل کے پاس ایک ٹوٹی ہوئی عمارت دکھائی دی۔ میرے ساتھی نے بتایا کہ یہ پولیس چوکی ہے۔ حالیہ فساد کے دنوں میں اس لو مسلمانوں کے ہجوم نے توڑنے کی کوشش کی تھی۔
ہندوستان کے مسلم لیڈروں نے عام طور پر اپوزیشن کی بولی کو اختیار کر لیا ہے۔ اپوزیشن کے لیڈر مخصوص مصالح کے تحت ہمیشہ پولیس یا انتظامیہ کے خلاف بیان دیا کرتے ہیں۔ اس کی نقل میں نام نہاد مسلم لیڈر بھی یہی کر رہے ہیں۔ ہر فساد کے بعد وہ آنکھ بند کر کے ایک ہی بیان جاری
‹ Previous page Next page › Contents of December 1993 All issues