I am looking for a job.
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۳۲
کرتے ہیں۔ وہ یہ کہ انتظامیہ (پولیس) نے فساد کرایا۔
اس طرح کے بیانات کا یہ نتیجہ ہوا ہے کہ مسلمان عام طور پر پولیس کے بارہ میں منفی سوچ کا شکار رہتے ہیں۔ اس لئے جب وہ پولیس کی پارٹی کو دیکھتے ہیں تو فوراًمشتعل ہوجاتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں انتہائی غیر ضروری طور پر مسلم پولیس تصادم پیش آتا ہے۔ پولیس کی مفروضہ مسلم دشمنی حقیقتاً مسلم لیڈروں کے غلط بیانات کا نتیجہ ہے۔ مگر اس کو خلاف واقعہ پر ہمارے اخبارات پولیس کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔
۴ فروری کی شام کو ۵ بجے فلائٹ ہاؤس میں تقریر تھی۔ ڈاکٹر رفیق زکریا صدارت کر رہے تھے۔ ہال پوری طرح بھرا ہوا تھا۔ باہر بھی کافی آدمی کھڑے ہوئے تھے میں نے تقریر شروع کرتے ہوئے کہا: اس نازک وقت میں بمبئی میں کیوں آیا۔ میں اس لئے آیا ہوں کہ جو کہانی آپ نے بار بار خون کے قطروں سے لکھنے کی کوشش کی مگر وہ لکھی نہ جاسکی۔ اب ایک بار ہم اس کہانی کو آنسوؤں کے قطروں سے لکھنے کی کوشش کریں۔ شاید اللہ تعالیٰ ہماری دل فگاری کو قبول کرلے، جو کہانی خون کے قطروں سے لکھی نہ جاسکی وہ آنسوؤں کے قطروں سے لکھ کر تیار ہو جائے۔
میں یہ الفاظ کہہ رہا تھا اور میری آنکھوں سے آنسو ٹپک رہے تھے۔ اتنے میں ایک نوجوان اٹھا۔ اس نے زور زور سے کہنا شروع کیا: ہم نہیں سنیں گے۔ تم واپس جاؤ۔ وغیرہ۔ میں خاموش ہو کر اپنی کرسی پر بیٹھ گیا۔ اتنے میں میں نے دیکھا کہ ہال کے حاضرین میں سے بہت سے لوگ کھڑے ہو گئے ہیں اور اس نوجوان سے کہہ رہے ہیں کہ تم کو نہیں سننا ہے تو تم یہاں سے چلے جاؤ۔ کیوں کہ ہمیں تو سننا ہے۔ کچھ دیر تک آوازوں کا شور رہا۔ آخر کار وہ لڑکا باہر چلا گیا۔ اس کے بعد میں نے ڈیڑھ گھنٹہ تقریر کی اور سارا مجمع نہایت خاموشی کے ساتھ سنتا رہا۔ حاضرین کی فرمائش پر میں نے اس موقع پر تین نکاتی فارمولا کی وضاحت کی۔
۴ فروری کو بمبئی میں ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ حالات اب تو یہاں کافی اعتدال پر آگئے ہیں مگر پچھلے ہفتہ تک عجیب حال تھا۔
انھوں نے بتایا کہ لوکل ٹرینوں میں لوگ خاموشی سے داخل ہو جاتے اور مکمل طور پر چپ رہتے۔ کوئی شخص بھی بولتا نہیں تھا۔ ڈبوں کے اندر ٹرین کے چلنے کی آواز کے سوا کوئی اور آواز مطلق سنائی
‹ Previous page Next page › Contents of December 1993 All issues