Al-Risala · December 1993 · page 33

Unusually it is a very large meeting.

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۳۳

نہیں دیتی تھی۔ تھی۔ انھوں نے بتایا کہ میں نے ممبئی سے تھانے تک ٹرین میں سفر کیا۔ یہ تقریبا ایک گھنٹہ کا سفر تھا۔ مگر پورے سفر میں کوئی انسانی آواز سنائی نہ دی۔ لوگوں کو ڈر ہوتا تھا کہ اگر وہ بولیں تو فوراً اُن کی آئیڈنٹٹی معلوم ہو جائے گی۔ اگر کبھی بولنا ضروری ہو جائے تو لوگ سوچنے لگتے تھے کہ ہندی میں بولیں یا مراٹھی میں۔ میں۔ انھوں نے بتایا کہ عام طور پر ٹرینوں میں لوگ وقت گزارنے کے لئے تاش کھیلتے ہیں یا بھجن گاتے ہیں۔ مگر فساد کے دنوں میں سب کچھ مکمل طور پر بند ہو گیا تھا۔ ۴ فروری کو ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی عمارت میں ۳۰ ویں منزل پر جانا ہوا۔ یہاں ایڈیٹرس گلڈ کی کی میٹنگ تھی جس میں مجھ کو خطاب کرنے کے لئے بلایا گیا تھا۔ "ایڈیٹرس گلڈ" کے زیر اہتمام دہلی کے ممتاز جرنلسٹوں کی ایک ٹیم ممبئی آئی تھی تاکہ یہاں کے فساد کے بارہ میں فرسٹ ہینڈ معلومات حاصل کرے ۔ یہ سب لوگ یہاں موجود تھے۔ چالیس سے زیادہ کی تعداد میں تمام بڑے بڑے ہندی اور انگریزی اخباروں کے ایڈیٹر اس میں شریک ہوئے۔ ہال کی ساری سیٹیں بھر گئیں۔ آخر کار مزید کرسیاں منگانی پڑیں۔ زیادہ تر ہندو اور کچھ کرسچن تھے۔ کنڈ کٹر نے آغاز کرتے ہوئے کہا:

Unusually it is a very large meeting.

مقررین نے ممبئی کے فساد پر زیادہ تر انتظامیہ کو سخت سست کہا۔ ایک صاحب نے پرجوش طور پر بولتے ہوئے کہا:

Who is policing the police.

دوسرے نے کہا کہ اصل قصور پولیس کا نہیں ہے بلکہ سیاسی لیڈروں کا ہے۔ پولیس کسی مجرم کو پکڑتی ہے اور اس کو سزا دینا چاہتی ہے۔ مگر فوراً ہی کسی لیڈر کا ٹیلی فون پولیس افسر کو پہنچ جاتا ہے کہ یہ میرا آدمی ہے، اس کو چھوڑ دو۔ لیڈر جب تک پولیس کے کام میں دخل دینا نہیں چھوڑیں گے، امن نہیں ہو سکتا۔

اکثر لوگ غصہ کے انداز میں بول رہے تھے کہ آخر اس قسم کے بھیانک فساد ملک میں کیوں ہوتے ہیں۔ ہر آدمی لمبی لمبی تقریر کرتا تھا۔ مگر اس کی تقریر یہ زیادہ تر غیر متعلق باتوں سے بھری رہتی تھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1993 All issues

Printed page