Who is policing the police.
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۳۴
میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ فرقہ وارانہ فساد کے مسئلہ پر جب بھی گفت گو ہوتی ہے تو اس کا عنوان ہوتا ہے : انڈیا میں فساد کا مسئلہ۔ حالاں کہ یہ عنوان ہی غلط ہے۔ کیوں کہ فساد جو ہو رہا ہے وہ پورے انڈیا میں نہیں ہو رہا ہے۔ وہ زیادہ تر نارتھ انڈیا میں ہو رہا ہے۔ گویا کہ اس وقت ہم جس مسئلہ کے حل کے بارہ میں بحث کر رہے ہیں، وہ آج بھی انڈیا کے نصف حصہ میں حل شدہ ہے۔ ایسی حالت میں کوئی نئی بحث چھیڑنے کے بجائے یہ کرنا چاہئے کہ ملک کے محفوظ حصہ (ساؤتھ انڈیا) کا مطالعہ کر کے جائیں کہ وہاں فساد کیوں نہیں ہوتا۔
میں نے اس کی تحقیق کی ہے۔ میری دریافت یہ ہے کہ ساؤتھ انڈیا کے لوگوں میں برداشت کرنے کا مزاج ہے، اس لئے وہاں فساد نہیں ہوتا۔ اس بنا پر میری رائے میں فساد کے مسئلہ کا حل یہ ہے کہ لوگوں میں برداشت کا مزاج پیدا کیا جائے۔ برداشت کا مزاج آتے ہی فساد اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔ اور یہ کام سب سے زیادہ اخبارات کر سکتے ہیں۔
۵ فروری ۱۹۹۳ کی شام کو انڈین ایئر لائنز کے ذریعہ بمبئی سے دہلی کے لئے واپسی ہوئی۔ بمبئی ایئرپورٹ پر اور جہاز میں کئی لوگ ایسٹ ویسٹ ایئرلائنز کی بات کرتے ہوئے سنائی دئے۔ ایک صاحب نے کہا کہ میں تو ایسٹ ویسٹ سے سفر کرنا چاہتا تھا، مگر اس میں جگہ نہیں ملی۔ چالیس سال پہلے ایک ایکٹ (Air Corporation Act 1953) پاس ہوا تھا۔
اس کے سکشن ۱۸ کے مطابق، انڈیا میں سرکاری ہوائی کمپنی کے سوا کسی اور شخص یا ادارہ کے لئے ہوائی جہازچلانا غیر قانونی تھا۔ مگر موجودہ حکومت نے پرائیویٹ کمپنیوں کو ہوائی سروس کی اجازت دے دی ہے۔ چنانچہ تقریبا چالیس کی تعداد میں پرائیویٹ ہوائی کمپنیاں قائم ہوگئی ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ بڑی اور سب سے زیادہ بہتر ایسٹ ویسٹ ایئرلائنز سمجھی جاتی ہے جو مسلمانوں نے قائم کی ہے اور اس کے چیئرمین نصیر الدین عبد الوحید ہیں۔ ایسٹ ویسٹ خود سرکاری انڈین ایئرلائنز کے لئے چیلنج بنتی جا رہی ہے۔
جس ملک میں یہ امکانات ہوں کہ ایک مسلم ادارہ قائم ہو کر اتنی ترقی کرے کہ وہ خود گورنمنٹ آف انڈیا کے لئے چیلنج بن جائے، اس ملک میں جو لوگ کہتے کہ یہاں مسلمانوں کے لئے کوئی اسکوپ نہیں، وہ ملک کے بارہ میں خبر نہیں دیتے بلکہ خود اپنی بے بصیرتی کا اعلان کر رہے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1993 All issues