Al-Risala · December 1993 · page 35

مدراس کا سفر

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۳۵

مدراس کا سفر

پیس مشن کے تحت ایک سفر ہوا۔ اس کا راستہ اس طرح تھا ــــ دہلی، مدراس، کانچی پورم، منگلور، ،منگلور،سرنگیری،ببمبئی بمبئی، پونہ، دہلی۔ اس سفر میں میرے ساتھ حسب ذیل مزید افراد شامل تھے : اچاریہ سوشیل کمار، سوامی چیدانند، مدھو مہتا، شانتی لال موتھا، نائجل ایڈمنڈول۔ اس سفر کی مختصر روداد تاریخ وار درج کی جاتی ہے۔

۱۵ فروری ۱۹۹۳

صبح فجر سے پہلے نظام الدین سے روانہ ہو کر دہلی ایئر پورٹ پہنچا۔ ایئر پورٹ پر ساڑھے پانچ بجے نماز کے بعد دعا کے لئے ہاتھ اٹھایا تو یہ الفاظ زبان پر آگئے: یا اللہ ، آپ کا ایک کمزور ترین بندہ ایک مشکل ترین کام کے لئے نکلا ہے۔ اس کی مدد فرمائیے۔ ملک میں امن قائم فرمائیے اور اہل وطن کے لئے اپنی رحمت و برکت کے دروازے کھول دیجئے ۔

دہلی سے مدراس کے لئے انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ ۴۳۹ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ دہلی سے اس قافلہ میں اچاریہ سوشیل کمار اور سوامی چیدانند اور نائجل ٹولی آسٹریلیا، شریک تھے۔ مدراس پہنچ کر مسٹر مدھومہتا (ہندوستانی اندر ولن)، اور مسٹر شانتی لال موتھا بھی اس میں شامل ہو گئے۔ یہ دونوں مبئی سے براہِ راست مدراس پہنچے تھے۔

دہلی اور مدراس کے درمیان سفر میں اچاریہ جی اور سوامی جی سے اس پر بات ہوئی کہ ملک میں امن و امان کس طرح قائم ہو۔ دونوں نے اس سے اتفاق کیا کہ بے غرض اور غیر متعصب قسم کی مذہبی شخصیتوں کو سامنے آنا چاہئے۔ ایسے ہی لوگ اس وقت کوئی موثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ سوامی جی نے کہا کہ بہتر انسانی تعلقات میں سب سے زیادہ جو چیز رکاوٹ بنتی ہے وہ ایگو ہے۔ "میں" کا ذہن ٹکراؤ پیدا کرتا ہے، اور اگر میں کا ذہن ختم کر دیا جائے تو اپنے آپ میل ملاپ ہو جائے گا :

The term “I” in the vertical form stands for ego, but in the horizontal form it becomes a bridge between two points.

‹ Previous page Next page › Contents of December 1993 All issues

Printed page