Al-Risala · December 1993 · page 37

۱۵ فروری ۱۹۹۳

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۳۷

بنا دیں گے۔

اسی جنہانی سیاست نے پہلے ملک کا بٹوارہ کیا تھا۔ اب وہ ہندوؤں اور مسلمانوں کا بٹوارہ کر رہی ہے۔ اس کے نتیجہ میں دونوں فرقوں میں اتنی زیادہ دوری آچکی ہے کہ ایک سماج میں دونوں کا معتدل طور پر رہنا ہی نا ممکن دکھائی دینے لگا ہے۔ مزید درد ناک بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے نا اہل لیڈر اپنی نا عاقبت اندیشانہ کارروائیوں کے ذریعہ اس دوری میں صرف اضافہ کا سبب بن رہے ہیں۔

مدراس سے سنکراچاریہ کے یہاں جانا تھا۔ چنانچہ یہاں سے بذریعہ کار کا نچی پورم کے لئے روانگی ہوئی۔ وہاں ہم لوگ ڈھائی بجے دن میں پہنچے۔ کانچی کے سنکراچاریہ (جگت گرو سنکر اچاریہ) سے تقریباً دو گھنٹہ کی ملاقات رہی۔ یہ آشرم کافی بڑا ہے۔ مگر وہ اتناہی سادہ ہے۔ نظم اور صفائی کا زیادہ اہتمام نظر نہیں آتا۔

کانچی کے سنکراچاریہ معمر ہیں اور انتہائی سادہ مزاج آدمی ہیں۔ گفتگو میں ہنسی کا انداز غالب رہتا ہے۔ ابتدائی مشاہدہ میں مجھے خیال ہوا کہ وہ بالکل سیدھے سادے ایک سنت ہیں۔ مگر بات چیت کے بعد معلوم ہوا کہ وہ نہایت ذہین آدمی ہیں۔ حالات سے پوری طرح با خبر ہیں۔ اور ہر معاملہ میں نہایت چنچی تلی رائے دیتے ہیں۔ مسلمانوں کے احوال سے بھی وہ کافی باخبر نظر آئے۔

سنکر اچاریہ نے جو باتیں کہیں ان کا خلاصہ یہ تھا کہ مندر اور مسجد کا جھگڑا اس طرح طے کیا جانا چاہئے کہ دیش کی شانتی بھنگ نہ ہونے پائے۔ کیوں کہ دیش میں اگر شانتی نہ ہو تو اس کے بعد دوسرا کوئی بھی کام نہیں کیا جاسکتا۔

اس دن ہم لوگ کانچی پورم سے لوٹ کر مدراس آ گئے۔ یہاں شام کو نماز مغرب کے بعد ایک پریس کانفرنس ہوئی۔ مدراس کے انگریزی اور تامل اخباروں کے رپورٹر موجود تھے۔ یو این آئی کی طرف سے بھی ایک نمائندہ اس میں شریک تھا۔ گفت گو زیادہ تر اجودھیا کے مسئلہ پر ہوئی۔ میں نے تین نکاتی فارمولا کی وضاحت کی۔ اس پریس کانفرنس میں میرے علاوہ اچاریہ سوشیل کمار اور سوامی چیدانند بھی موجود تھے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1993 All issues

Printed page