۱۵ فروری ۱۹۹۳
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۳۸
مدراس میں کئی تعلیم یافتہ افراد سے ملاقات ہوئی۔ ایک ہندو تاجر مسٹر سی ایل مہتا نے کہا کہ اجودھیا میں ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو جو کچھ ہوا، اس کا مکمل ویڈیو فلم تیار کیا گیا تھا۔ اس کو اب جگہ جگہ دکھایا جارہا ہے۔ اگر پہلے سے اس کا منصوبہ نہ بنایا گیا ہوتا تو اس عمل کا پورا فلم کیسے تیار کیا جاسکتا تھا۔ اس فلم کے اثرات بے حد خطر ناک ہیں۔ ایک ہندو نوجوان نے اس فلم کو دیکھ کر کہا : آخر کار ہم نے فتح پالی۔ ایک اور ہندو نوجوان اس کو دیکھنے کے بعد بول اٹھا: غلامی کا نشان مٹ گیا۔ ایک اور ہندو نوجوان نے کہا : مسلمان دباؤ کی بھاشا سمجھتے ہیں، یہ بات اب پکی ہو گئی ۔ مدراس سے ہم لوگوں کو منگلور جانا تھا۔ اور پھر وہاں سے سرینگری جا کر دوسرے سنکراچاریہ سے ملنا تھا، قیام گاہ سے ایئرپورٹ کے لئے روانہ ہوئے تو گاڑی میں میرے ساتھ آسٹریلیا (اسٹلی) کے ۴۷ سالہ مسٹر نائیجل ایڈمنڈ ٹولی (Nigel Edmund Tolley) بھی موجود تھے۔ ان سے میں نے پوچھا کہ انڈیا اور آسٹریلیا میں آپ نے کیا فرق دیکھا۔ انھوں نے بہت سے مادی فرق بتائے۔ مثلاً زیادہ آمدنی، زیادہ صاف سڑکیں، زیادہ اچھے گھر، ہر چیز اعلیٰ صنعتی معیار کی۔ میں نے کہا کہ کیا یہ کہنا صحیح ہوگا کہ آسٹریلیا کے لوگ ہندستان سے زیادہ خوش ہیں۔ انھوں نے کہا کہ نہیں۔ خوشی کا تعلق دل سے ہے، اس کا تعلق مادی چیزوں سے نہیں : Happiness comes from the heart, not from money. مسٹر ٹولی نے ایک لڑکی سے شادی کی۔ اس سے ایک بچہ پیدا ہوا۔ مگر چند سال کے بعد دونوں میں علیحدگی ہو گئی۔ اب دونوں الگ الگ رہتے ہیں۔ دونوں غیر مطمئن ہیں۔ دونوں میں سے کسی نے ابھی تک دوسرا نکاح نہیں کیا۔ مغربی ملکوں میں طلاق کی کثرت کی وجہ انھوں نے یہ بتایا کہ آزادی کا تصور اتنا غالب ہے کہ عورتیں مرد کی بات سننے کے لئے تیار نہیں ۔ مدرس سے منگلور کے لئے انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ ۵۵۹ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ راستہ میں انڈین ایکسپریس (۱۶ فروری) دیکھا۔ اس میں صفحہ ۶پر ایک کتاب کا تذکرہ تھا : Dr Barbara Theiring, Jesus the Man ڈاکٹر بار برانے ۲۰ سال تک بحر مردار کی دستاویزات (Dead Sea scrolls)
‹ Previous page Next page › Contents of December 1993 All issues