۱۵ فروری ۱۹۹۳
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۳۹
کا مطالعہ کیا ہے۔ اس کے بعد انھوں نے مذکورہ کتاب تیار کی ہے۔ اس میں حضرت مسیح کی زندگی کے جو حالات ہیں وہ اس سے بالکل مختلف ہیں جو موجودہ انجیل میں ہیں یا مسیحی چرچ میں بتائے جاتے ہیں۔ اس کے مطابق حضرت مسیح نے دو بار نکاح کیا۔ ان کے یہاں بچے پیدا ہوئے۔ ان میں سے ایک بچی کا نکاح پال سے ہوا۔ حضرت مسیح سولی کے بعد بھی زندہ رہے۔ اور بڑھاپے کی عمر کو پہنچ کر ان کی وفات ہوئی۔ وغیرہ۔ مبصر نے ان باتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا تھا: The Christ whom Christians worship and the Jesus of the New Testament do not appear to be the same person. The former is the romantic product of theology and the latter, an Intolerant prophet who denied his own mother at a wedding party, cursed a tree for not bearing fruit, promised to divide family members against each other. ۱۰ بجے دن میں ہمارا جہاز منگلور کے ہوائی اڈہ پر اتر گیا۔ ہمارے قافلہ میں پانچ آدمی تھے۔ یہاں سے ہم لوگ کار کے ذریعہ روانہ ہوئے۔ سڑک کے دونوں طرف دور تک سرسبز وادیوں کا منظر پھیلا ہوا تھا۔ تاہم مسلسل سفر کی وجہ سے میرا سر بوجھل ہو رہا تھا۔ سر کے اندر چکّر کی سی کیفیت تھی۔ میں چاہتا تھا کہ قدرتی مناظر کو دیکھنے کی خوشی حاصل کروں۔ مگر ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے میری ذہنی حالت اس میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
میرے دل نے کہا کہ قادر مطلق کی شان کے خلاف ہے کہ وہ انسان کو امپرفکٹ دنیا دے مگر وہ اس کو پرفکٹ دنیا سے محروم رکھے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کا یہ محسوس کرنا کہ یہ دنیا اس کے لئے امپرفکٹ ہے، یہ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ پرفکٹ دنیا بھی ضرور اس کے لئے تیار کی گئی ہے۔ منگلور سے بذریعہ روڈ ہم نے ڈھائی گھنٹہ کا سفر طے کیا۔ اس کے بعد ہم لوگ ڈیڑھ بجے دن میں سرنگری (Sithgen) میں داخل ہو گئے۔ یہیں پرستی کے کنارے ایک بڑے رقبہ میں شنکر اچاریہ کا آشرم ہے جو ۱۲ سو سال سے قائم ہے۔
سرنگری میں ایک معلوماتی کتاب ۱۲۵ صفحہ کی ملی۔ یہ ۱۹۹۱ میں انگریزی میں چھاپی گئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ جگہ گرد و آدمی شنکر اچاریہ (۸۲۰- ۷۸۸ ء) نے صرف ۳۲ سال کی عمر پائی۔ مگر انھوں نے انڈیا کی تاریخ پر بہت گہرا اثر ڈالا۔ انھوں نے دیش بھر کا سفر کر کے چار کونوں پر
‹ Previous page Next page › Contents of December 1993 All issues