Al-Risala · December 1993 · page 40

۱۵ فروری ۱۹۹۳

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۴۰

چار مٹھ بنائے۔ دوارکا (ویسٹ) بدری کسرانا (نارتھ) جگناتھ (ایسٹ) سرنگیری (ساؤتھ)۔ تعارفی کتاب کا ایک ذیلی عنوان ٹیپو سلطان کے بارہ میں ہے ۔ اسی میں بتایا گیا ہے کہ ٹیپو سلطان کے کئی خطوط مٹھ کے دفتر میں محفوظ ہیں۔ ایک خط کے بارہ میں یہ الفاظ درج ہیں: In a letter, he reiterated his conviction that his strength and hope were reared upon the three fold basis of God's grace, the holy Jagadguru's blessings, and the prowess of the arms of the realm. (p.68)

گزرے۔ سرنگیری کے سنکر اچاریہ سے ملنے کے لئے یہاں کا سفر ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ آدمی سنکر اچاریہ نے بھارت میں چار مرکز قائم کرنے کے بعد یہیں قیام کیا تھا۔ ان کے آخری ایام اسی جگہ گزرے ۔ سرنگیری مٹھ بالکل جدید طرز پر بنا ہوا ہے ۔ ۴۶ ایکڑ کے رقبہ میں واقع اس مٹھ میں نظم اور صفائی اعلیٰ معیار کی نظر آئی۔

یہ مٹھ قدرتی مناظر کے درمیان واقع ہے۔ جگہ نہایت پر فضا ہے۔ پورے ماحول میں ایک خوشگوار سکون چھایا ہوا ہے۔ چڑیوں کی آواز کے سوا کوئی اور آواز اتفاقاً ہی سُنائی دیتی ہے۔ ندی، باغ پل، پارک، پہاڑیاں، یہ اس کے اجزائے ترکیبی ہیں۔

دوپہر کا کھانا ہم لوگوں نے یہاں کھایا۔ میرے علاوہ سوامی چیدانند، مدھو مہتا، شانتی لال مونٹھا اورسٹر ٹولی شریک تھے جو ہندو ازم سے متاثر ہیں۔ ایک بڑے کمرہ میں سادہ میز کے چاروں طرف سادہ کرسیاں بچھی ہوئی تھیں۔ میز کے اوپر کیلے کے ہرے پتے بچھائے گئے ۔ پھر اس پتے کے اوپر روٹی ، چاول، سالن وغیرہ باری باری لا کر رکھا گیا ۔

ہر چیز صاف ستھری اور صحت بخش تھی۔ سنگری مٹھ کے ایڈ منسٹریٹر ڈاکٹر گوری شنکر (V.R. Gowri Shankar) بھی کھانے میں شریک تھے۔ کھانے سے فارغ ہو کر مٹھ کے اندر اپنے کمرہ میں ظہر کی نماز پڑھی۔ اس کے بعد آرام کیا۔ شام کو چار بجے سنکر اچاریہ سے ہم لوگوں نے ملاقات کی۔

سنکراچاریہ سے بہت اچھے ماحول میں ملاقات ہوئی۔ انھوں نے ہمارے پیس مشن کی مکمل حمایت کی۔ انھوں نے اپنی گفتگو کے دوران کہا کہ دھرم کا مطلب مذہب نہیں ہے۔ بلکہ کہ تو برالس دسمبر ۱۹۹۳

‹ Previous page Next page › Contents of December 1993 All issues

Printed page