۱۵ فروری ۱۹۹۳
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۴۱
ڈیوٹی) ہے۔ یہ سیاسی لوگ ہیں جنہوں نے دھرم کو مذہب کا معنی دے دیا ہے۔ دھرم تو انسان کا کر تو ہے ۔ جیسے پتنی کا دھرم ، راجہ کا دھرم ، وغیرہ۔ ہندو کا لفظ ہماری کتابوں میں کہیں نہیں۔ یہ لیڈر ہیں جنھوں نے "ہندو" کو وہ نام دیا ہے جو آج سمجھا جاتا ہے۔
مسٹر دھوہتانے اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک میں ہر چیز بزنس ہو گئی ہے۔ حتی کہ روحانیت کو بھی تجارت کی چیز بنا دیا گیا ہے:
Even spiritualism has been commercialised in this country. ۱۷ فروری ۱۹۹۳ آج صبح کو سرنگیری سے واپس ہونا تھا۔ یہاں میں نے اپنے کمرہ میں فجر کی نماز پڑھی۔ سینہ میں جذبات کا تلاطم برپا تھا۔ مگر ایسا محسوس ہوا جیسے کہ جذبات الفاظ کی صورت میں ڈھل نہیں رہے ہیں۔ جذبات جب بہت زیادہ گہرے ہوں تو کیفیات کا غلبہ اتنا بڑھ جاتا ہے کہ الفاظ کے لئے ساتھ دینا مشکل ہو جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ خدا یا ، اس دعا تو میری طرف سے لکھ لے جس کے لیے میرے پاس الفاظ بھی نہیں۔
ہمارے ساتھی شانتی لال مورتا (پونہ) نے کل شام کو یہاں کے مطبخ میں کہہ دیا تھا کہ صبح کو ہم لوگ اڈلی کا ناشتہ کریں گے۔ چنانچہ صبح کو ضروریات سے فارغ ہو کر ہم لوگ کھانے کی میز پر آئے تو کیلے کے پتہ پر اڈلی ، ناریل کی چٹنی اور کافی رکھی ہوئی تھی۔ یہ جنوبی ہند کا عمومی ناشتہ ہے۔ اس سے فراغت کے بعد ہمارا قافلہ سرنگیری سے منگلور کے لئے روانہ ہوا۔
پورا راستہ سبزہ سے ڈھکے ہوئے پہاڑوں کے درمیان طے ہوا۔ قدرت کے پھیلے ہوئے مناظر اٹھارہ سکون کا پیغام دے رہے تھے۔ کبھی کبھی سامنے سے کوئی گاڑی آتی ہوئی دکھائی دیتی۔ جب سامنے کی گاڑی اور ہماری گاڑی قریب آتی تو ٹر آنک اصول کے مطابق، ایک گاڑی دائیں کی طرف اور دوسری گاڑی بائیں کی طرف کترا کر نکل جاتی۔ میں نے سوچا کہ دونوں گاڑی اگر سیدھا چلنے پر اصرار کرے تو دونوں ہی تباہ ہو جائیں۔ اور جب دونوں ایک دوسرے کو اوائڈ کرتی ہیں تو دونوں کو زندگی کی شاہراہ مل جاتی ہے۔
راستہ میں سوامی جیانند اپنی دلچسپ باتیں سناتے رہے۔ ایک بار انھوں نے کہا کہ پیار کی
‹ Previous page Next page › Contents of December 1993 All issues