۱۵ فروری ۱۹۹۳
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۴۲
کون سی ایسی ہے جو دنیا میں ہر جگہ چلتی ہے۔ پھر اس خیال کو موزوں کرتے ہوئے کہا: پیار کا دیا جلاؤ، دشمنی کا اندھیرا بھاگاؤ۔
اگلے دن میں ہم لوگ منگلور ایئر پورٹ پہنچ گئے۔ یہاں لاؤنج میں کچھ وقت گزارا۔ لوگ آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ میں خاموشی سے سن رہا تھا۔ ایک ہندو بھائی نے کہا کہ ہم مندر ۔ مسجد پالیس کو فورڈ نہیں کرسکتے۔ انھوں نے کہا کہ ممبئی میں میرا کار خانہ ہے۔ میں ایکسپورٹ کا سامان تیار کرتا ہوں۔ میرے علاقے میں فساد نہیں ہوا، مگر فساد کی خبریں پھیلیں تو میرے ورک فورس کا ۹۵ فیصد حصہ بھاگ گیا۔ اب میری انڈسٹری ٹھپ پڑی ہوئی ہے۔ بھلا اس طرح دیش ترقی کر سکتا ہے۔ دوسرے ہندو بھائی نے کہا کہ اشوک سنگھل جیسے لوگوں کا کہنا ہے کہ :
دیش کو بچانا ہے غلامی کا کلنک مٹانا ہے۔
مگر یہ نعرہ بالکل الٹا ہے۔ ان لوگوں کو کہنا چاہئے کہ غلامی کا کلنک مٹانے کے نام پر دیش کو تباہ کرنا ہے۔ یہی تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنی جھوٹی سیاست سے دیش کو تباہی کے کنارے پر پہنچا دیا ہے۔ اور پھر خود ہی وہ دیش کو بچانے کا نعرہ لگا رہے ہیں۔
میں نے سوچا کہ اسی کو فارسی زبان میں کہا گیا ہے کہ برعکس نہند نام زنگی کافور۔ یہ سیاست کی بد ترین قسم ہے۔ اس میں کچھ فرضی چیزوں کو اشو بنایاجاتا ہے۔ اور پھر جذباتی تقریروں کے ذریعہ اس کو بڑھا کر آخری حد پہنچا دیا جاتا ہے۔ یہ ایک قسم کا قومی نشہ ہے، اس کا قومی ترقی سے کوئی تعلق نہیں۔
انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ نمبر ۱۴۰ کے ذریعہ منگلور سے ممبئی کے لئے روانگی ہوئی۔ راستہ میں آج کے دو اخبار پڑھے۔ انڈین ایکسپریس اور حیدر آباد کا نیوز ٹائم۔ نیوز ٹائم دے، افروزی میں رابطہ عالم اسلامی کے سکریٹری ڈاکٹر عبد اللہ عمر نصیف کا ایک انٹرویو چھپا ہوا تھا۔ اس کو ورلڈ نیوز لنک نے ریکارڈ کیا تھا۔
ایک سوال یہ تھا کہ مسلم دنیا میں جو فنڈ منٹلسٹ تحریکیں چل رہی ہیں ان کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔ ڈاکٹر نصیف نے جواب دیا کہ ہر مذہب میں ایسے لوگ ہیں جو اپنے جوش کے تحت رات دن کے اندر نتیجہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ اسی طرح مسلمانوں میں بھی ہیں۔ پہلا کام یہ ہے کہ لوگوں میں تعلیم
‹ Previous page Next page › Contents of December 1993 All issues