۱۵ فروری ۱۹۹۳
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۴۳
بڑھائی جائے۔ اخلاق اقدار پیدا کی جائیں۔ اسی طرح ایک اور سوال یہ تھا کہ سلمان رشدی کے خلاف موت کا فتویٰ جو ایران کے مذہبی لیڈر نے دیا تھا، اس کے بارہ میں آپ کی رائے کیا ہے۔ اس کے جواب میں ڈاکٹر نصیف کا حسب ذیل جواب اخبار میں نقل کیا گیا ہے:
یہ بات اگر ہندوستان یا پاکستان کا کوئی شخص کہے تو نام نہاد علماء اس کے قتل کا یا کم از کم اس کو کوڑا مارنے کا فتویٰ صادر کر دیں گے۔ گے۔ مگر یہی پر جوش حامیانِ اسلام اس وقت خاموش رہتے ہیں جب کہ وہ سعودی عرب کے کسی ذمہ دار شخص کی طرف سے کہی گئی ہو۔ کیسا عجیب ہو گا وہ اسلام جو بھارت جیسے ملک میں کچھ اور ہو اور پٹرول ڈالنے والے ملک میں پہنچے، ہی کچھ اور ہو جائے ۔ بمبئی میں ہمارے ساتھی ائیر پورٹ پر موجود تھے۔ تاہم پروگرام کے مطابق ، آج پونہ جانا تھا۔ بمبئی میں دو گھنٹے گزار کر بذریعہ کار پونہ کے لئے روانگی ہوئی۔
مسٹر شانتی لال موتھا نے مجھ کو پیچھے کی سیٹ پر لٹا دیا۔ تقریبا ایک گھنٹہ کے بعد اٹھ کر بیٹھ گیا۔ میں باہر کی طرف دیکھ رہا تھا۔ شانتی لال موتھا نے پوچھا کہ آپ کو کیا چاہئے۔ کیا چائے یا کولڈ ڈرنک وغیرہ۔ میں نے کہا کہ نہیں۔ میں دیکھ رہا تھا کہ سڑک کے کنارے کوئی مسجد ہو تو اتر کر نماز پڑھلوں۔ انھوں نے کہا کہ مسجد تو ابھی ہمارے پیچھے تھی۔ فوراً گاڑی روک کر پیچھے کی طرف لے گئے۔ اور مسجد کے پاس اس کو کھڑا کر دیا۔ میں نے اتر کر وہاں نماز پڑھی اور پھر ہم لوگ آگے کے لئے روانہ ہوئے۔
مغرب کے وقت ہم لوگ پونہ پہنچ گئے۔ یہاں پہلے مسٹر شانتی لال موہتا کے آفس میں ٹھہرا۔ کچھ دیر بعد جناب عبد الصمد صاحب اور جناب محمد یونس صاحب آگئے ۔ ان لوگوں کے ساتھ میں نیوایرا کالونی میں آگیا۔ یہاں میرا قیام محمد یونس صاحب کے مکان پر تھا۔ پونہ کے کئی لوگ خبر سن کر یہاں آگئے۔ رات ساڑھے گیارہ بجے تک ان لوگوں سے بات ہوتی رہی۔
میں نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ ہندو مسلم تعلقات میں زیادہ سے زیادہ اضافہ
‹ Previous page Next page › Contents of December 1993 All issues