۱۵ فروری ۱۹۹۳
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۴۴
کی ضرورت ہے۔ اکثر مسلمان ایسا کہتے ہیں کہ وہ برادرانِ وطن کو حلقوں اور جماعتوں میں تقسیم کر کے دیکھتے ہیں۔ یہ آر ایس ایس کا آدمی ہے۔ یہ کانگریس کا آدمی ہے۔ یہ بھارتیہ جنتا پارٹی کا آدمی ہے۔ یہ اس جماعت کا آدمی ہے۔ یہ اُس جماعت کا آدمی ہے۔ اس قسم کی سوچ سراسر بے بنیاد ہے۔ صحیح اسلامی بات یہ ہے کہ تمام لوگوں کو انسان کی نظر سے دیکھا جائے ۔ جماعتی تعلق ہمیشہ اضافی ہوتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ہر ایک انسان ہے۔ اور ہر ایک کے ساتھ انسان کے اعتبار سے معاملہ کرنا چاہئے ۔ ۱۸ فروری ۱۹۹۳ آج فجر کی نماز نیو ایرا پورنہ کی مسجد میں پڑھی۔ امام صاحب نے آخری رکعت میں قرآن کا جو حصہ پڑھا، اس کی آخری آیت یہ تھی: تھی:واصبر وما صَبَرُكَ اِلَّا بِاللَّهِ وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَلَا تَكُ فِي ضَيْقٍ مِمَّا يَمْكُرُونَ - انّ الله مع الذين اتقوا والذين هم محسنون (النحل - ۲۸ - ۱۲۷) نماز کے بعد کچھ لوگ میری قیام گاہ پر اکٹھا ہو گئے۔ میں نے مذکورہ آیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قرآن کے اس بیان پر غور کیجئے تو اس میں آپ کو موجودہ حالات کے اعتبار سے بہت بڑا سبق ملے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دنیا اللہ تعالیٰ نے اس طرح بنائی ہے کہ یہاں ہمارا اصل مسئلہ ہمارے خلاف سازش کی موجودگی نہیں ہوگی۔ بلکہ اصل مسئلہ خود ہمارے اندر صبر اور تقویٰ اور حسن عمل کی غیر موجودگی ہوگی۔ گویا یہاں سارا معاملہ خود ہمارے اپنے اختیار میں ہے۔ ہمیں باہر کی سازشوں پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ بلکہ خود اپنے اندر تقویٰ اور صبر اور حسن عمل کی صفت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر داخلی سطح پر ہمارے اندر یہ اوصاف موجود ہوں تو اس کے بعد تمام بیرونی مسائل اپنے آپ ختم ہو جائیں گے۔
پونہ کے تعلیم یافتہ افراد میری رہائش گاہ پر آتے رہے اور ان سے مختلف قسم کے دینی اور ملی امور پر باتیں ہوتی رہیں۔ عبد القادر عبد الغنی صاحب (۳۵ سال نے گفتگو کے دوران کہا کہ آج کا مسلمان جھگڑا بالکل نہیں چاہتا۔ آج اگر مسلمان لیڈر کسی جھگڑے والی بات کے لئے بلائیں تو مسلمانوں کی طرف سے انھیں کوئی رسپانس ملنے والا نہیں۔ میں نے کہا کہ یہ ۶ دسمبر کے حادثہ کا ایک روشن پہلو ہے۔ ۶ دسمبر کو جب بابری مسجد کی عمارت ڈھائی گئی تو اسی کے ساتھ موجودہ نام نہاد مسلم قیادت بھی ہمیشہ کے لئے ڈھ گئی۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1993 All issues