Al-Risala · December 1993 · page 45

۱۹ فروری ۱۹۹۳

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۴۵

شام کو نمازِ عشاء کے بعد ڈاکٹر عبد الرزاق شیخ کی رہائش گاہ پر ایک اجتماع ہوا۔ اس میں شہر کے تعلیم یافتہ افراد بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ اس موقع پر میں نے اجودھیا کے مسئلہ پر تقریر کی اور تین نکاتی فارمولا کی تشریح کی۔ آخر میں سوال و جواب پر مجلس برخاست ہوئی۔ بمبئی کے ٹائمس آف انڈیا کا پونہ کے لئے ایک ضمیمہ نکلتا ہے۔ اس کا نام پونے پلس (Pune Plus) ہے۔ ڈاکٹر شیخ کا ایک مراسلہ اس کے کل کے شمارہ میں شائع ہوا ہے۔ اس میں انھوں نے تین نکاتی فارمولا کی مکمل حمایت کی ہے۔

۱۹ فروری ۱۹۹۳

صبح ساڑھے نو بجے پونہ کے اردو ٹاورس کے ہال میں وسیع پیمانہ پر ایک کانفرنس ہوئی ۔ حاضرین میں پونہ کے ہر طبقہ کے ممتاز افراد شریک ہوئے۔ میرے علاوہ، اچاریہ سوشیل کمار اور سوامی چید آنند کی تقریریں ہوئیں۔ تقریر کے بعد سوال و جواب ہوا۔ پریس کے لوگ بڑی تعداد میں موجود تھے۔ چنانچہ اگلے دن انگریزی، مراٹھی، ہندی، کے تمام اخباروں میں مفصل رپورٹیں شائع ہوئیں۔

شام کو ۵ بجے سندھیوں کے بڑے گرو دادا و اسوانی سے ان کے آشرم پر ملاقات ہوئی۔ وہ تواضع اور شرافت اور انکسار کی سراپا تصویر تھے ۔ انھوں نے مسجد کو گرہ اگر ولی مندر بنانے پر بہت دکھ کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا:

They are killing the spirit of India.

انھوں نے کہا کہ اگر اجودھیا میں رام مندر بنتا ہے تو اس کے ساتھ وہیں ایک مسجد بھی بننا چاہئے۔ اور اگر ایسا ہواتو میں خود وہاں جاکر اذان دوں گا اور وہاں نماز پڑھوں گا۔ مغرب کی نماز پونہ میں پڑھ کر بمبئی کے لئے روانگی ہوئی ۔ یہ سفر بذریعہ روڈ طے ہوا ۔ اچاریہ سوشیل کمار اور سوامی چید آنند بھی ساتھ تھے۔ راستہ میں ایک چھوٹے بازار میں کچھ کام کے لئے رکے۔ دکاندار نے دیکھتے ہی پہچان لیا۔ اس نے کہا کہ ابھی ہم نے آپ لوگوں کو ٹی وی پر دیکھا ہے۔ ٹی وی کسی شخصیت کی توسیع ہے۔ وہ اس عقیدہ کو قابل فہم بناتا ہے کہ خدا ہر جگہ موجود ہے۔ رات کو ساڑھے دس بجے ہم لوگ بمبئی پہنچے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1993 All issues

Printed page