They are killing the spirit of India.
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۴۶
فجر کی نماز بمبئی میں جو ہوا سکیم میں پڑھی۔ صبح کا کچھ وقت یہاں گزرا۔ اس کے بعد ہمیں ہیکر ٹاورس پہنچنا تھا۔ ہمارا تاتلۂ نین کاروں میں روانہ ہوا۔ میں مسٹر افضل الانہ کے ساتھ بیٹھ گیا۔ ہم دونوں ایک دوسرے کے لئے نئے تھے۔ وہ الیکٹرانک سنٹر چلاتے ہیں۔ حال ہی میں انھوں نے نئی ماروتی کار خریدی ہے۔ اس پر وہ مجھ کو لے کر روانہ ہوئے۔
لمبے راستہ میں ایک گھنٹہ تک زیادہ تر وہی بولتے رہے۔ ان کی گفتگو تمام کی تمام اس پر تھی کہ آج مسلم نوجوانوں میں زبردست فرسٹریشن ہے۔ یہ فرسٹریشن لڑائی جھگڑے کی صورت میں ظاہر ہوتارہتا ہے۔ انھوں نے موجودہ حالات کی ذمہ داری سب سے زیادہ ملکی تعصب پر ڈالی۔
ان کے ذاتی حالات معلوم کرتے ہوئے مجھے یہ پتہ چلا کہ وہ بمبئی آئے تو انھوں نے ڈیڑھ سو روپیہ مہینہ کی "پگار" پر کام کرنا شروع کیا۔ عام رواج کے خلاف، انھوں نے کبھی بیٹھ سے تنخواہ اور الاؤنس بڑھانے کی بات نہیں کی۔ وہ بس اپنے کام میں محنت کرتے رہے۔ یہاں تک کہ ان کو کافی تجربہ ہوگیا۔ اب وہ الیکٹرانکس میں اپنا ذاتی کاروبار کرتے ہیں اور بمبئی میں کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔
آخر میں میں نے کہا کہ آپ کا مسئلہ یہ ہے کہ آپ کی عملی زندگی الگ ہے، اور آپ کی سوچ الگ۔ آپ نے اپنی زندگی کے لئے جو طریقہ اختیار کیا ہے وہ بلاشبہ کامیابی کا طریقہ تھا۔ مگر یہ طریقہ آپ کی سوچ میں شامل نہ ہوسکا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ اپنی زبان سے یہ اعلان کر رہے ہیں کہ انڈیا میں مسلم نوجوانوں کے لئے کامیابی کی کوئی صورت نہیں۔ حالانکہ عین اسی وقت آپ اسی انڈیا میں مکمل کامیابی حاصل کئے ہوئے ہیں۔
میں نے کہا کہ آپ ہی جیسا معاملہ آج کل اکثر مسلمانوں کا ہو رہا ہے۔ یہاں لاکھوں لوگ ہیں، جنھوں نے اپنی ذات کی سطح پر محنت کرکے کامیاب زندگی حاصل کی ہے۔ مگر جب وہ بولتے ہیں تو وہ اپنی زندگی کا تجربہ بیان نہیں کرتے۔ بلکہ سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر شکایت اور مایوسی کی زبان بولنے لگتے ہیں۔ آپ جیسے لوگ اگر صرف یہ کریں کہ وہ خود اپنا تجربہ لوگوں سامنے بیان کریں تو
‹ Previous page Next page › Contents of December 1993 All issues