Al-Risala · December 1993 · page 47

They are killing the spirit of India.

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۴۷

ملت کا آدھا مسئلہ حل ہو جائے۔

...اق م میں بمبئی صرف مچیروں کی ایک معمولی بستی تھی۔ تیسری صدی قبل مسیح میں یہ علاقہ اشوک کی سلطنت کا حصہ بنا۔ اس کے بعد وہ مختلف راجاؤں کے ماتحت رہا۔ ۱۲۹۴ میں وہ خلجی خاندان کے قبضہ میں آیا۔ ۱۵۰۴ میں یہاں سمندر کے راستہ سے پرتگالی داخل ہوئے۔ ۱۶۶۱ میں جزیرہ بمبئی انگریزوں کے قبضہ میں آیا۔ ایک عرصہ تک وہ برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کے زیر انتظام رہا۔ ۱۸۵۰ میں پہلی سوتی مل یہاں قائم ہوئی۔

بمبئی میں میں" جو ہو اسکیم کے علاقہ میں ٹھہرا تھا۔ یہاں ہندوؤں کا اوپر کا طبقہ اور کچھ اعلیٰ طبقہ کے مسلمان رہتے ہیں۔ مختصر قیام کے دوران یہاں اس طبقہ کے لائف اسٹائل کو دیکھنے اور جاننے کا موقع ملا۔ اس اختلاط کے دوران یہ بات سمجھ میں آئی کہ ہندو۔ مسلم اشوز کو اگر محدود دائرہ میں رکھا جائے ، ان کو قومی پرستیج کی حد تک نہ پہنچنے دیا جائے تو ہندوؤں کا اوپر کا طبقہ ان معاملات میں غیر جانب دار رہے گا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہندوؤں کے اوپر کے طبقہ کا وزن اس قسم کی تحریکوں کو نہ ملے تو اس کی واحد یقینی تدبیر یہ ہے کہ ان کو قومی پرستیج کی حد تک جانے سے روکا جائے۔

مثلاً اجودھیا کے مسئلہ کو اگر اجودھیا تک محدود رکھا جاتا، شاہ بانو بیگم کے معاملہ میں ملکی اندولن نہ چلایا جاتا تو فرقہ پرست یا تشدد پسند عناصر کو اوپر کے طبقہ کے ہندوؤں کا تعاون ہرگز نہ ملتا۔

بمبئی میں مسٹر ایس آر سنگھوی (750625 ,750866 .Tel) سے ملاقات ہوئی، وہ کلکتہ میں رہتے ہیں اور ایکسپورٹ کا بزنس کرتے ہیں۔ انھوں نے امرار کے ساتھ کہا کہ آپ کلکتہ کا پروگرام بنائیے۔ ہم اس میں پورا تعاون دیں گے۔

انھوں نے بتایا کہ ان کی تعلیم بنارس میں ہوئی۔ یہاں کالج میں مسلم لڑکے بھی تھے۔ ان کے ساتھ ہمارے بہت اچھے تعلقات تھے۔ ایک دوسرے کے گھر میں آنا جانا تھا۔ کوئی بھید بھاؤ نہیں تھا۔ ہم لوگ ایک دوسرے سے بھائی کی طرح ملتے تھے۔ ہم میں سے کوئی بھی ہندو مسلم ذہن کے ساتھ نہیں سوچتا تھا۔ گرہ۔ ۶ سال میں بہت زیادہ فرق آگیا۔ ایک دوسرے کے درمیان بہت دوری ہم الرسائل دسمبر ۱۹۹۳

‹ Previous page Next page › Contents of December 1993 All issues

Printed page