They are killing the spirit of India.
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۴۸
آگئی۔ یہ اس وقت ہوا جبکہ ایک طرف بابری مسجد تحریک اٹھی، اور دوسری طرف رام مندر تحریک شروع ہوئی۔ ان تحریکوں نے سارے ماحول میں زہر گھول دیا۔
گویا کہ موجودہ فرقہ وارانہ منافرت نہ مسلم دور حکومت کی دین ہے اور نہ ملک کے بٹوارہ کا نتیجہ۔ وہ قریب کی بعض تحریکوں کا نتیجہ ہے جو نہایت غیر دانش مندانہ انداز میں چلائی گئیں۔ کچھ فرقہ پرست ہندو اگر ماضی کی بعض باتوں کو آج دہرارہے ہیں تو اس کی حیثیت حقیقتاً نکٹ بعد الوقوع کی ہے۔
ظہر کی نماز کے بعد مسٹر خوراکی والا شریف بمبئی نے پنچ پر شہر کے کچھ خاص لوگوں کو بلایا تھا۔ یہاں موجودہ حالات پر لوگوں سے گفتگو ہوئی۔ مسٹر خوراکی والا نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ملک جدھر جا رہا ہے اس پر سب کو دکھ ہے۔ اب ہمیں سوچنا ہے کہ ان حالات میں کیا کرنا چاہئے۔ عمومی تاثر یہ تھا کہ ذاتی مفاد اور پارٹی پالٹیکس سے اوپر اٹھ کر دیش کے مفاد کو سپریم بنانے کی ضرورت ہے۔ ورنہ قومی مستقبل کی تعمیر ممکن نہیں۔
آج دن میں شہر کی کئی ممتاز شخصیتوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ ان میں ہندو اور مسلمان دونوں تھے۔ ہر ایک نے تین نکاتی فارمولا سے غیر معمولی دلچسپی کا اظہار کیا اور اس کو ملک میں امن کے قیام کا ذریعہ بتایا۔
شام کو ۸ بجے جم خانہ کلب کے ہال میں عمومی اجتماع ہوا۔ تمام سیٹیں پوری طرح بھری ہوئی تھیں۔ اعلی تعلیم یافتہ افراد، ہندو اور مسلم دونوں بڑی تعداد میں اکٹھا ہوئے۔ مقررین میں میرے علاوہ اچار یہ سوشیل کمار، سوامی چیدانند نانی پالکی والا، کارہ دینال سالمن پینٹا، لو مالوپ زنگ اور ایف ٹی خوراکی والا تھے۔
مسٹر سعید نقوی نے اپنی تقریر میں بتایا کہ میں فیض آباد کارہنے والا ہوں جواجو دجیا کے پڑوس میں ہے۔ مگر ۱۹۸۱ء کے ایجی ٹیشن سے پہلے تک میرے والدین کو یہ بھی معلوم نہ تھا کہ بابری مسجد کہاں ہے۔ یہ صرف تحریکوں کی دھوم تھی جس نے لوگوں کو اس سے باخبر کیا۔ پالکی والا نے اپنی تقریر میں کہا انڈیا میں اس وقت آپس کے جو جھگڑے ہیں وہ شرمناک حد تک بے معنی ہیں۔ ہم کو اگر ترقی کرنا ہے تو ہمیں ان آپسی جھگڑوں کو ختم کرنا ہوگا۔ انھوں نے
‹ Previous page Next page › Contents of December 1993 All issues