Public opinion is extremely against Muslims.
الرسالہ، اگست ۱۹۹۵، صفحہ ۶
ساتھ رہا ہے۔ لیکن آج اسی ملک میں زبردست اسلامی لہر آئی ہوئی ہے :
But now a severe Islamic wave is sweeping the same nation. مگر سوالات کے دوران اندازہ ہوا کہ " اسلامی لہر" کا یہ نظریہ زیادہ تر خوش فہمی پر مبنی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ فرانس کے چالیس ہزار مسلم نوجوان مکمل طور پر اسلام کے زیر اثر ہیں۔ مگر جب میں نے مزید سوالات کیے تو معلوم ہوا کہ یہ وہی نوجوان ہیں جو بے روزگاری کا شکار ہیں یا اس احساس میں مبتلا ہیں کہ فرانس کی سوسائٹی میں انھیں با عزت مقام نہیں ملا۔ دوسرے لفظوں میں اس اسلامی لہر کے پیچھے اصل محرک مادی محرومی کا احساس ہے نہ کہ آخرت کی جواب دہی کا احساس ۔ یہ اسلام کا ایکسپلائٹیشن ہے۔ اور اسلام کے اس قومی ایکسپلائٹیشن کا یہ الٹا نتیجہ نکلا ہے کہ ، مذکورہ فرانسیسی مسلمان کے اعتراف کے مطابق ، یہاں کی رائے عامہ شدت سے مسلمانوں کے خلاف ہو گئی ہے :
Public opinion is extremely against Muslims.
ان انتہا پسند مسلمانوں نے اسلام کی نمائندگی اس طرح کی ہے کہ فرانسیسیوں کو نظر آتا ہے کہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو ان کے سسٹم سے ٹکرا تا ہے۔ چنانچہ حکومت کی طرف سے بہت سی غیر ضروری رکاوٹیں یہاں کے مسلمانوں کو پیش آرہی ہیں۔ فرانس کے وزیر داخلہ چارلس پاسک (Chartes Pasqua) نے شہرلیان (Lyon) کی مسجد کے افتتاح کے وقت اپنی تقریر میں کہا کہ ہمیں فرانس میں صرف اسلام نہیں چاہیے بلکہ ہمیں وہ اسلام چاہیے جو فرانس کا اسلام ہو :
We would not have just an Islam in France. There must be an Islam of France. فرانس کے مسلمانوں میں بہت تھوڑی تعداد کو چھوڑ کر سب کے سب نارتھ افریقہ کے مہاجرین ہیں۔ نو آبادیاتی دور میں فرانس نے ۱۸۳۰ء میں الجیریا کو فتح کیا ، ۱۹۰۹ء میں اس نے افریقی صحارا کے بڑے حصے پر اپنا کنٹرول قائم کر لیا ۔ تیونس کو اس نے ۱۸۸۱ء میں فتح کیا۔ اسی طرح ۱۹۰۵ء میں مراکو کو اپنی سیاسی تحتی میں لے لیا ۔ اس وقت اسپین کو بھی مراکو کا ایک حصہ دے دیا گیا تھا۔ نارتھ افریقہ کے علاقہ پر اسی قبضہ کے زمانہ میں دونوں ملکوں میں آمد و رفت بڑھی۔ اور بڑی تعداد میں افریقہ کے مسلمان اپنے ملکوں سے نکل کر فرانس میں روزگار کے لیے آگئے ۔ ان لوگوں نے فرانس کو سستا مزدور فراہم کیا جس کی اس
‹ Previous page Next page › Contents of August 1995 All issues