Public opinion is extremely against Muslims.
الرسالہ، اگست ۱۹۹۵، صفحہ ۷
وقت فرانس کو سخت ضرورت تھی ۔
اب یہی لوگ فرانس کے شہری بن کر یہاں آباد ہوگئے ہیں۔ ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اس طرح حالات نے مسلمانوں کو اپنے مدعو کے ملک میں پہنچا دیا تھا۔ اگر وہ معاشی حصول کے بعد صرف دعوت کو اپنا نشانہ بناتے تو یہاں ان کے لیے کوئی مسئلہ پیدا نہ ہوتا۔ اس کی ایک انفرادی مثال ڈاکٹر حمید اللہ صاحب ہیں۔ انھوں نے صرف علمی اور دعوتی دائرہ تک اپنے کو محدود رکھا۔ چنانچہ وہ فرانس میں ایک مقبول شخصیت بن گئے۔ مگر نام نہاد اسلام پسندوں نے کلچرل تشخص اور قومی حقوق کے نام پر فرانسیسیوں سے زور آزما ئی شروع کر دی ۔
اس غلط پالیسی کا یہ نتیجہ تو نہیں نکلا کہ فرانس میں ان مسلمانوں کے قومی مطالبات پورے ہو جائیں۔ البتہ یہ احتجاجی سیاست فرانس میں ان کے خلاف نفرت اور غصہ کی فصل اگارہی ہے۔ اور اس کے نتیجہ میں دعوت کے مواقع برباد ہو رہے ہیں ۔
پیرس میں ایک لڑکی ملی۔ اس نے اپنا نام شاد یہ بتایا، نام سے اس کی شخصیت واضح نہیں ہو رہی تھی۔ مزید دریافت پر معلوم ہوا کہ اس کا باپ ایک مصری مسلمان ہے۔ اس نے یہاں ایک عیسائی خاتون سے شادی کی۔ اس خاتون نے اپنا مذہب نہیں بدلا، اس کے بعد ان کے یہاں مذکورہ لڑکی (شادیہ) پیدا ہوئی۔ ایک عرصہ بعد مصری مسلمان اور اس کی عیسائی بیوی میں اختلاف ہو گیا۔ بڑھتے بڑھتے دونوں میں طلاق ہو گئی ۔ اب یہ عورت اپنی لڑکی کے ساتھ علیحدہ مکان میں رہتی ہے۔
گفتگو سے میں نے اندازہ کیا کہ اصل مسئلہ غالباً یہ تھا کہ شاد یہ کا بوائے فرینڈ گھر میں آتا تھا۔ وہ ڈرنک بھی کرنے لگی ۔ ان باتوں پر اس کی ماں کو اعتراض نہیں تھا۔ مگر مصری مسلمان سخت اعتراض کرتا تھا۔ فرانس چونکہ ایک مسیحی ملک ہے ، بیوی کا پلڑا بھاری ثابت ہوا۔ آخر کار مصری مسلمان کی مرضی کے علی الرغم اس نے طلاق لے لی ۔ اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں کے مسلمان کس قسم کے نازک مسائل سے دوچار ہیں۔
فرانس کے مسلمانوں میں محدود تعداد نو مسلموں کی ہے۔ تا ہم یہ نو مسلم مسلمانوں کی کسی تبلیغ سے اسلام کی طرف راغب نہیں ہوئے ہیں بلکہ نہ زیادہ تر اپنے ذاتی مطالعہ سے اسلام کی طرف آئے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو دور جدید کے " حنفاء " کہا جا سکتا ہے ۔ انسان کے اندر فطری طور پر حق کی طلب موجود
‹ Previous page Next page › Contents of August 1995 All issues