Public opinion is extremely against Muslims.
الرسالہ، اگست ۱۹۹۵، صفحہ ۸
ہے۔ تاہم بعض افراد کے اندر یہ طلب زیادہ طاقت ور صورت میں ہوتی ہے۔ یہ لوگ خود اپنے اندرونی تقاضے کے تحت اسلام کا مطالعہ کرتے ہیں اور پھر اپنی روحانی طلب کا جواب پا کر اس کو قبول کر لیتے ہیں۔ ایک نومسلم خاتون (مسز زرینہ) نے ایک بڑا عجیب واقعہ بتایا۔ حال میں ایک فرانسیسی عیسائی نے اسلام قبول کیا ہے۔ قبولِ اسلام سے پہلے وہ صرف اسلامی لٹریچر سے آشنا ہوا تھا۔ قبولِ اسلام کے بعد اس کا ربط مسلمانوں سے ہوا۔ اس نے بعد کو اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ میں اسلام سے اس وقت واقف ہوا جب کہ میری ملاقات ابھی کسی ایک مسلمان سے بھی نہیں ہوئی تھی : Thank God I was introduced to Islam before I was introduced to a single Muslim. فرانس میں بڑی تعداد میں مستشرق پیدا ہوئے ۔ انھوں نے عربی زبان سیکھی اور اسلامی علوم کا گہرا مطالعہ کیا۔ عام طور پر ہمارے یہاں استشراق کو اسلام کے خلاف ایک مغربی سازش سمجھا جاتا ہے مگر یہ ایک بے بنیاد بات ہے۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلم دانشور اپنے بگڑے ہوئے مزاج کی بنا پر ایسا کرتے ہیں کہ کسی کے یہاں اگر کوئی چیز خلافِ مزاج یا خلافِ حق دیکھتے ہیں تو بس اسی کو جز لائز کرنے لگتے ہیں۔ وہ آدمی کی تمام مثبت باتوں کو بھلا کر چند اختلافی باتوں ہی کو اس کی کل بات قرار دے دیتے ہیں۔
مستشرقین میں بہت سے ایسے افراد ہیں جنھوں نے اسلام کے گہرے مطالعہ کے بعد اسلام قبول کر لیا۔ انھیں میں سے ایک فرانس کا مستشرق اتین دینیہ (Etienne Dinet) ہے۔ وہ ۱۸۶۱ء میں پیرس میں پیدا ہوا، اور ۱۹۲۹ء میں پیرس ہی میں اس کی وفات ہوئی۔ اس نے ۱۹۲۷ء میں الجزائر میں اسلام قبول کر لیا۔ اس کے قبولِ اسلام کی تقریب میں عرب علماء کی بڑی تعداد شریک تھی۔ اس نے اپنا اسلامی نام ناصر الدین رکھا۔ اس کی اسلام پر کئی اعلیٰ تصنیفات ہیں۔ ان میں سے ایک فرانسیسی زبان میں لکھی ہوئی سیرت (Mohamet) ہے ۔ اس کی مختلف اسلامی کتابوں میں سے ایک کتاب عربی میں اشعة من نور الاسلام کے نام سے شائع ہوئی ہے۔ وفات کے بعد اس کی وصیت کے مطابق، اس کی تدفین الجزائر کے ایک گاؤں بوسعادہ میں ہوئی۔
ڈاکٹر محمود المقدا د کی کتاب تاريخ الدراسات العربية في فرنسا ۱۹۹۲ء میں کویت سے
‹ Previous page Next page › Contents of August 1995 All issues