Al-Risala · August 1995 · page 9

Public opinion is extremely against Muslims.

الرسالہ، اگست ۱۹۹۵، صفحہ ۹

چھپی ہے۔۔۔ ۳۰ صفحوں کی یہ کتاب فرانس میں عربی مطالعات کے موضوع پر ایک اچھی کتاب ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ۱۸۳۰ء میں جب فرانس نے الجزائر پر قبضہ کیا تو یہ فرانسیسیوں کے لیے عربی زبان اور عربی علوم کے مطالعہ کا نہایت طاقت ور محرک بن گیا۔ اس کے بعد فرانس میں بڑے بڑے مستغرب (مستشرق) پیدا ہوئے۔ انھیں میں سے ایک اہم شخصیت ہنری ماسیہ (H. Masse) کی ہے جس نے خاص اس موضوع پر ایک تفصیلی مقالہ شائع کیا ہے (صفحہ ۲۲۹)

عرب دنیا میں سیاسی نفوذ حاصل کرنے کے بعد فرانس نے عربوں کو فرانسیسی بنانے (فرنسۃ الشعب العربی) کی مہم چلائی تھی، مگر سیاسی اور فوجی بالا دستی کے باوجود فرانس ناکام رہا۔ فرنسۃ (الشعب العربی) کی مہم عملاً (صدمۃ الشعب الفرنسی) کے ہم معنی بن گئی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نظریہ کی طاقت ہر دوسری طاقت سے زیادہ عظیم ہے۔

بنگلہ دیش کی مصنفہ تسلیمہ نسرین، جو اپنے وطن سے بھاگ کر سویڈن میں مقیم ہے، آجکل فرانس کے دس روزہ دورہ پر ہے۔ اس کو فرانس بلا کر انسانی حقوق کی مجاہدہ کا انعام دیا گیا ہے۔ یکم دسمبر ۱۹۹۴ کو موصوفہ سے فرانس کے صدر متراں (Francois Mitterrand) نے ریلیزی پیلیس میں ملاقات کی۔ تسلیمہ نسرین نے صدر فرانس کو بتایا کہ کس طرح وہ اپنی روشن خیالی کی بنا پر انتہا پسند مسلمانوں کے عتاب کا شکار ہورہی ہے۔ ۲۰ منٹ کی یہ ملاقات خود پریسیڈنٹ متراں کی درخواست پر ہوئی ۔ کیونکہ صدر موصوف یہ چاہتے تھے کہ وہ فرانس کی طرف سے موصوفہ کی قدر دانی کا اظہار کریں۔ نام نہاد مسلم دانشور اس واقعہ پر صدر فرانس کو برا کہیں گے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کے ذمہ دار وہ لوگ ہیں جنھوں نے اعتراض کے اشو کو ہنگامہ آرائی کا اشو بنایا۔ اور اس طرح انتہائی غیر ضروری طور پر تسلیمہ نسرین کو ہیرو کا درجہ دے دیا۔

کسی طالب علم سے پوچھا گیا کہ کیا وجہ ہے کہ غیر کمیونسٹوں کو رائٹسٹ اور کمیونسٹوں کو لیفٹسٹ کہا جاتا ہے۔ اس نے اپنی ذہانت کے زور پر جواب دیا ۔ ۔۔۔۔۔ اس لیے کہ واقعات ثابت کرتے ہیں کہ وہ کبھی رائٹ (درست) نہیں ہوتے :

‹ Previous page Next page › Contents of August 1995 All issues

Printed page