Granada, paradise regained
الرسالہ، اگست ۱۹۹۵، صفحہ ۱۱
مضمون غرناطہ کے بارہ میں تھا۔ رنگین تصویروں کے ساتھ یہ مضمون میگزین کے ۲۰ صفحات پر پھیلا ہوا تھا۔ یہ بیک وقت اسپینی اور انگریزی دونوں زبانوں میں تھا۔ اہل اسپین نے ایک عرصہ تک، مسلم دور کو نظر انداز کیا۔ پھر انہیں معلوم ہوا کہ اسپین کی مسلم یادگاروں کی اہمیت ان کے لیے مزید اضافہ کے ساتھ وہی ہے جو ہندوستان میں تاج محل کی ہے۔ چنانچہ مضمون کا عنوان اس طرح قائم کیا گیا تھا غرناطہ، جنت کی دوبارہ یافت :
Granada, paradise regained
مضمون یہاں سے شروع کیا گیا تھا کہ یہ عمارتیں اور یہ باغات اس لیے بنائے گئے تھے کہ ہم اپنے تصور کی جنت کا ایک پیشگی نظارہ کر سکیں ۔ یہاں زمینی ماحول کو ہماری تصوراتی جنت میں ڈھالا گیا تھا۔ اندلس کا مسلم غرناطہ زمین پر جنت بنانے کی ایسی ہی ایک مثال ہے ۔ مضمون کی اگلی سطروں میں بتایا گیا تھا کہ ان مسلم بادشاہوں کو ان کے علامتی شہر غرناطہ سے اور ان کی بنائی ہوئی جنت عدن سے نکالے جانے کے پانچ سو سال بعد اب کچھ لوگ کوشش کر رہے ہیں کہ ان کی کھوئی ہوئی جنت کو دوبارہ حاصل کر سکیں :
Now, five hundred years after they were expelled from Granada, their private Eden and their most emblematic city, there are some who are trying to regain that lost paradise of theirs. (p. 62)
اسپین میں داخل ہونے کے بعد جب میں نے دیکھا کہ یہاں مسلمان آزاد ہیں ، اور یہاں اسلام کی سرگرمیاں جاری ہیں تو میں نے کہا : ہندوستان میں کچھ نادان لوگ یہ کہتے رہتے ہیں کہ انتہا پسند ہندو انڈیا کو دوسرا اسپین بنانا چاہتے ہیں ۔ مگر ان کو زمانہ کے فرق کا علم نہیں ۔ ان کو معلوم نہیں کہ پہلا اسپین بنانے کی کوشش ابھی کامیاب بھی نہیں ہوئی تھی کہ زمانہ نے عالمی حالات کو بدل کر "اسپین سازی" جیسے منصوبہ کا امکان ہی ختم کر دیا۔
اسپینی ایرلائنز کی اس فلائٹ میگزین (Ronda Iberia) میں اسپین کے مسلم عہد کا نہایت شاندار با تصویر تعارف کرایا گیا تھا۔ اس کو سیاحوں کے لیے اسپین کے سب سے زیادہ پرکشش مقام کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ اس ذیل میں اعتراف کیا گیا تھا کہ مسلم دور کے اسپین میں موجودہ اسپین سے بہتر حالات تھے۔ مزید یہ کہ الاندلس (مسلم اسپین) کی وراثت کبھی اسپین سے ختم نہیں ہوئی
‹ Previous page Next page › Contents of August 1995 All issues