Al-Risala · August 1995 · page 12

Granada, paradise regained

الرسالہ، اگست ۱۹۹۵، صفحہ ۱۲

اور نہ وہ کبھی ملک بدر کی گئی۔ وہ مختلف صورتوں میں یہاں باقی رہی (اصل عبارت ذیل میں ملاحظہ فرمائیں) میڈرڈ ایئرپورٹ پر زیادہ وقت نہیں لگا۔ کانفرنس کی طرف سے دو خواتین موجود تھیں۔ انھوں نے ایک گاڑی میرے حوالے کی جس نے مجھے ہوٹل ایورو بلڈنگ (Hotel Eurobuilding) پہنچا دیا ۔ جہاں میرا قیام کمرہ نمبر ۶۶ ۶ میں تھا۔

ہماری گاڑی جب میڈرڈ کی سڑکوں سے گزر رہی تھی تو اس کو دیکھ کر مجھے یہ احساس ہوا کہ میڈرڈ مغربی یورپ کے بڑے شہروں کے مقابلے میں دوسرے درجے کا شہر ہے۔ ابتدائی مرحلہ میں اسپین نے مغربی یورپ کو سائنسی ترقی کا راستہ دکھایا تھا۔ مگر آخری مرحلہ میں اسپین پیچھے اور مغربی یورپ آگے ہو گیا ۔ اس کی وجہ یہاں کے مذہبی طبقہ کا غلط کردار ہے۔ انھوں نے اسپین کے مسلمانوں کے ترقیاتی پہلو کو نہیں دیکھا۔ انھوں نے صرف یہ دیکھا کہ وہ غیر مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں ۔ اس پہلو کو لے کر انھوں نے مسلمانوں کے خلاف خوب نفرت پھیلائی اور اسی کے ساتھ مسلمانوں کے علم کے خلاف بھی۔ اس منفی روش نے اسپین میں علمی ترقی کے عمل کو کئی سو سال پیچھے کر دیا۔

انگریز مورخ لین پول (Lane-Pool) نے موجودہ صدی کے آغاز میں ایک کتاب لکھی تھی جس کا نام اسپین کے مسلمان (Moors in Spain) تھا۔ اس کتاب میں مصنف نے اسپینی مسلمانوں کے علمی اور تمدنی کارناموں کا کھلے دل سے اعتراف کیا ہے۔ پھر اس نے لکھا ہے کہ اسپین کی مسلم حکومت کا خاتمہ اور وہاں سے جبراً مسلمانوں کو نکالنے کا یہ نتیجہ ہو ا کہ اسپین دوبارہ اسی غیر ترقی یافتہ حالت کی طرف لوٹ گیا جہاں وہ پہلے تھا۔ اس نے لکھا ہے کہ مسلمان اسپین سے نکال دیے گئے۔ کچھ دیر کے لیے مسیحی اسپین چمکا تھا

‹ Previous page Next page › Contents of August 1995 All issues

Printed page