Granada, paradise regained
الرسالہ، اگست ۱۹۹۵، صفحہ ۱۳
جس طرح چاند غیر کی روشنی سے چمک اٹھتا ہے۔ پھر گرہن لگ گیا۔ اور اسی تاریکی میں اسپین اب تک پڑا ہوا ہے :
The Moors were banished, for a while Christian Spain shone, like the moon, with a borrowed light, then came the eclipse, and in that darkness Spain has grovelled ever since. (p. مسلم اسپین کا تعارف سب سے پہلے مجھے مسدس حالی کے ذریعہ ہوا۔ اس میں اسپین کے مسلم عہد کا ذکر بڑے جذباتی انداز میں کیا گیا ہے۔ مگر وہ سلبی نوعیت کا تھا۔ مثلاً مسدس کے ایک بند کا دوسرا مصرعہ اس طرح تھا :
کوئی قرطبہ کے کھنڈر جا کے دیکھے وہ اجڑا ہوا کتر و منہ جا کے دیکھے اس کے بعد میں نے عربی یا اردو میں جتنے تذکرے پڑھے وہ تقریباً سب کے سب مرثیہ خوانی کے انداز میں تھے۔ مثلاً اقبال نے مسلم نوجوان کو خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ” وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا “ اقبال احمد سہیل کی ایک نظم میں میں نے اس قسم کے اشعار پڑھے : ہمیں چھائے ہوئے تھے شرق سے تا مغرب دنیا میں موافق جن دنوں تھی گردش دور زماں ہم سے مسلم دانشور اور مسلم ادیب اس قسم کی مرثیہ خوانی میں کیوں مبتلا ہیں۔ اس کی وجہ بہت بعد کو مجھے اس وقت معلوم ہوئی جب کہ اسلام کے وسیع مطالعہ کے بعد میں نے دوبارہ اسلام کو دریافت کیا۔ اب معلوم ہوا کہ ان لوگوں کی کمزوری یہ ہے کہ وہ اسلام کی عظمت کو الحمراء اور لال قلعہ کی سطح پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ سیاسی عظمت کے سوا کسی اور عظمت کی انھیں خبر نہیں۔ اگر وہ صاحب بصیرت ہوتے تو وہ جانتے کہ اسلام کی نظریاتی عظمت تمام عظمتوں سے زیادہ بڑی ہے۔ مزید یہ کہ یہ نظریاتی عظمت اس وقت بھی پوری طرح باقی رہتی ہے جب کہ در و دیوار کی عظمتیں کھنڈر ہو کر گزری ہوئی تاریخ کا حصہ بن چکی ہوں ۔
۲۸ نومبر کی صبح کو اٹھا تو یہ سوچ کر عجیب احساس ہوا کہ کل میں ہندوستان میں سوکر اٹھا تھا۔ آج میں سوکر اٹھا ہوں تو میں ہزاروں میل دور اسپین میں ہوں۔ وضو کر کے فجر کی نماز ادا کی۔ نماز میں جب میں قرآن کے ایک حصہ کی تلاوت کر رہا تھا تو غیر معمولی طور پر میری آواز اونچی ہوگئی۔ یہ احساس کہ آپ ایک نئی جگہ اللہ کا نام بلند کر رہے ہیں، آپ کے جذبات میں ایک ہیجان پیدا کر دیتا ہے۔ آپ
‹ Previous page Next page › Contents of August 1995 All issues