Al-Risala · August 1995 · page 14

Granada, paradise regained

الرسالہ، اگست ۱۹۹۵، صفحہ ۱۴

زیادہ بڑھی ہوئی کیفیت کے ساتھ ذکر اور عبادت کا فعل انجام دینے لگتے ہیں۔

اسپین کے وقت میں اور انڈیا کے وقت میں ساڑھے چار گھنٹہ کا فرق ہے۔ اس وقت جب کہ میں اپنے ہوٹل کے کمرہ میں بیٹھ کر یہ سطریں لکھ رہا ہوں۔ یہاں رات کے ساڑھے گیارہ بجے ہیں۔ جب کہ اس وقت انڈیا کی گھڑیوں کی سوئی صبح چار بجے کا وقت بتا رہی ہے۔ وقت کے اسی فرق کی وجہ سے ایسا ہوا کہ میں، ۲۷۷ نومبر کی صبح کو دہلی سے روانہ ہوا، اور اسی دن شام کو میڈرڈ پہنچ گیا۔ اگر مشارق و مغارب میں فرق نہ ہوتا اور دونوں ملکوں کی گھڑی ایک ہی ہوتی تو، ۲۷ نومبر کوروانہ ہونے کے بعد جب میں یہاں پہنچتا اس وقت کلنڈر میں ۲۸ نومبر کی تاریخ شروع ہو چکی ہوتی۔

۲ نومبر کی شام کو جب میں کمپیوٹر کارڈ کے ذریعہ تالا کھول کر اپنے کمرہ میں داخل ہوا تو پہلی نظر میں کمرہ بہت شاندار نظر آیا۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ یہ میڈرڈ کا ایک ممتاز ہوٹل ہے۔ لیکن اگلے ہی دن میری نظر میں اس کی جاذبیت ختم ہو چکی تھی۔ حتی کہ یہاں ٹھہرنے کا شوق کرنے کے بجائے اب میں واپسی کے دن گننے لگا۔ یہی دنیا کی تمام بظاہر عمدہ چیزوں کا حال ہے۔ دنیا کی ہر چیز ملنے کے پہلے دن اچھی معلوم ہوتی ہے۔ لیکن اگلے ہی دن وہ ایک معمولی چیز دکھائی دینے لگتی ہے۔ دور سے دیکھنے والے جس زندگی کو عیش کی زندگی سمجھتے ہیں وہ خود صاحب عیش کے لیے صرف بورڈم کے ہم معنیٰ ہوتی ہے۔ یہ صرف جنت کی خصوصیت ہے کہ اس کی جاذبیت کبھی ختم نہ ہوگی۔ بلکہ ہر دن اس کی لذت بڑھتی ہی چلی جائے گی۔ دنیا میں اللہ تعالی نے عمل میں لذت رکھ دی ہے اور آخرت میں عمل کے انجام میں۔ شیخ اسحاق ادریس سکوتہ کا تعلق سوڈان سے ہے۔ صبح کے ناشتہ پر ملاقات ہوئی تو ان سے میں نے مہدی سوڈانی (1885-1844ء) کے بارہ میں پوچھا۔ میں نے کہا کہ وہ مجھے کچھ زیادہ سمجھ دار آدمی معلوم نہیں ہوتے خود یہ بھی ایک کم عقلی کی بات ہے کہ کوئی آدمی مہدی ہونے کا دعویٰ کرے ۔ مگر عوام کی ایک بھیڑ ان کے گرد اکٹھا ہو گئی۔ انھوں نے ایسے اقدام کیے جن کو صرف نا پختہ اقدام ہی کہا جا سکتا ہے شیخ سکوتہ نے جواب دیا : كان يرى رسول الله كثيراً۔ ولكن مشيئة الله فوق ذلك ۔ یعنی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں بہت زیادہ دیکھتے تھے۔ مگر اللہ کی مشیئت اس سے اوپر ہے۔ خواب میں کسی کو دیکھنا یہ ایک شخص کا ذاتی معاملہ ہے۔ اس کی بنا پر مہدویت کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔ اور نہ اس طرح کے خواب کی بنیاد پر کوئی قومی یا اجتماعی پالیسی بنائی جا سکتی۔ قومی یا ملی پالیسی

‹ Previous page Next page › Contents of August 1995 All issues

Printed page